افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان، امریکا اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق کابل میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ڈی جی ایم او میجر جنرل صابر شہزاد مرزا کی قیادت میں پاک فوج کے چھ رکنی وفد نے شرکت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ سہ فریقی اجلاس میں دہشت گردی کو تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیا گیا اور اس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سہ فریقی اجلاس میں باہمی سیکیورٹی دلچسپی اور تحفظات پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ اجلاس میں معلومات کے تبادلے کے ذریعے خطے سے داعش کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

اس موقع پر تینوں ممالک نے داعش کے خلاف باہمی تعاون اور اقدامات تیز کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کے علاوہ افغان وزارت دفاع میں پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان ایک اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ہمسایہ ممالک کے وفود نے اپنےعلاقوں میں جاری آپریشنز اور قیدیوں کے تبادلے پر غور کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اجلاس میں سرحد پار فائرنگ پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے دوطرفہ تعاون مزید تیز کرنے پر اتفاق ہوا۔