لاہور: پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے محمد عرفان پر پی سی بی کی طرف سے عائد کردہ پابندی آج ختم ہوگئی اور اب طویل قامت پیسر کو بحالی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں منظر عام پر آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں محمد عرفان کا نام بھی شامل تھا جہاں ان پر الزام تھا کہ انھوں نے بکی کی جانب سے رابطے کی اطلاع پی سی بی کو نہیں دی اور اس الزام کو تسلیم بھی کیا تھا۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں خالد لطیف، شرجیل خان اور شاہ زیب حسن نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور شرجیل خان کو ڈھائی سال کیلئے معطلی سمیت 5 سال کی سزا بھی سنائی جا چکی جبکہ بقیہ کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

محمد عرفان کو پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی نے 6ماہ کی معطلی سمیت ایک سال پابندی اور10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ان کی معطلی کی مدت آج ختم ہو گئی ہے۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں طویل قامت پیسر کو 14 مارچ کو معطل کیا گیا تھا اور ان کی ایک سالہ سزا میں 6 ماہ کی معطلی کی سزا شامل تھی اور لازمی پابندی کی مدت پوری ہو چکی جس کے بعد انہیں بحالی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔

تفضل رضوی نے بتایا کہ جرمانے کی ادائیگی اور بحالی پروگرام پر عملدرآمد کے بعد محمد عرفان دوبارہ کرکٹ کھیلنے کے اہل ہو جائیں گے۔