ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر میاں عتیق—۔فائل فوٹو
ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر میاں عتیق—۔فائل فوٹو

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے حالیہ سینیٹ اجلاس کے دوران الیکشن بل 2017 کی منظوری کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حق میں ووٹ دینے پر اپنے ایک سینیٹر میاں عتیق کو پارٹی سے نکال دیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ بل کے پاس ہونے سے حکمران جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اُس ترمیم کو شکست دینے میں ناکام ہوگئی، جس کے ذریعے کوئی نااہل شخص کسی پارٹی کے صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا تھا۔

مسلم لیگ (ن) محض ایک ووٹ کی وجہ سے یہ بل منظور کروانے میں کامیاب ہوئی، جو کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر میاں عتیق کا تھا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق میاں عتیق کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کے اعتراف کے بعد ان کو پارٹی سے نکالے جانے کا فیصلہ ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا، 'میاں عتیق نے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا، جس کی وجہ سے ہم یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے'۔

پارٹی نے الیکشن بل کی منظوری کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں دیگر سینیٹرز کی غیر موجودگی پر انہیں بھی شوکاز نوٹس جاری کیا۔

مزید پڑھیں: الیکشن بل 2017: نواز شریف کے پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار

واضح رہے کہ رواں ماہ 23 ستمبر کو سینیٹ نے انتخابی اصلاحاتی بل 2017 کی منظوری دی، جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد ایک مرتبہ پھر پارٹی کے صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔

انتخابی اصلاحاتی بل 2017 قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ترمیم پیش کی کہ جو شخص اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا جس کے بعد بل پر ووٹنگ ہوئی۔

تاہم حکومت نے محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق 203 میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کردی۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ قائمہ کمیٹی میں ’الیکشن بل 2017‘ ترامیم کے ساتھ منظور

یاد رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (پی پی او) 2002 میں درج تھا کہ ایسا کوئی شخص سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا جو رکن قومی اسمبلی نہیں یا پھر اسے آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہو۔

انتخابی اصلاحاتی بل 2017 میں ترامیم کے لیے سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں اعتزاز احسن کی ترمیم کی حمایت میں 37 اور مخالفت میں 38 ووٹ آئے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر میاں عتیق کا ایک ووٹ حکومت کے لیے الیکشن بل 2017 میں اہم ترمیم رد کرنے میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوا تھا۔