چیئرمین نیب کی تقرری کے مقاصد واضح نہیں، پی ٹی آئی

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2017

ای میل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے لیے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی تقرری پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تقرری کن مقاصد اور اہلیت کی بنیاد پر ہوئی ہے واضح نہیں ہے جبکہ پی ٹی آئی سے مشاورت نہیں کی گئی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی صدارت میں مرکزی قائدین کا اجلاس ہوا جہاں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

پی ٹی آئی کے اجلاس میں وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین، شیرین مزاری، شفقت محمود، عارف علوی، اسد عمر، اعظم سواتی، فواد چوہدری اور دیگر نے شرکت کی جہاں انھیں تیکینکی کمیٹی نے تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران کہا گیا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے پورے عمل میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں اور چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے قطعاً مشاورت نہیں کی گئی۔

تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پوری سنجیدگی سے جو نام تجویز کیے گئے تھے ان پر بھی مشاورت نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں:جسٹس (ر)جاوید اقبال چیئرمین نیب مقرر

جسٹس (ر) جاوید اقبال کی بطور نیب چیئرمین تقرری کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ کن مقاصد اور اہلیت و قابلیت کے معیار کے پیش نظر چیئرمین کی تقرری کی گئی ہے اس حوالے سے کوئی علم نہیں۔

خیال رہے کہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی مشاورت سے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جاوید اقبال کو نیب کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جس کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی نے نیب چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے کہا ہے کہ اس فیصلے کی درستی یا غلطی مستقبل میں ان کی کارکردگی سے ظاہر ہوگی۔

عمران خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کہا کہ سپریم کورٹ ہی نہیں بلکہ پوری قوم چیئرمین نیب کی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور دیکھنا ہے کہ نئے چیئرمین اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چلتے ہیں یا کسی دوسرے رستے کا انتخاب کرتےہیں۔

پی ٹی آئی نے نیب میں موجود مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کا انسداد ناگزیر ہے اور لازم ہے کہ چیئرمین نیب پاناما کیس کے بعد کھلنے والے مقدمات بالخصوص حدیبیہ پیپر ملز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سرگرمی دکھائیں۔

پی ٹی آئی کے قائدین کا موقف تھا کہ پاناما لیکس میں سامنے آنے والے دیگر افراد کو بھی کٹہرے میں لانے کا بندوبست بھی نئے چیئرمین کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے گزشتہ روز چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا تھا کہ ماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کی جانب سے تجویز کیے گئے نام اچھے تھے لیکن مشاورت کے بعد جسٹس جاوید اقبال کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال اچھی شہرت کے حامل ہیں اور ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ کے طور پر اچھا کام کیا تھا۔

انھوں نے اس انتخاب پر بہتری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ توقع کرتا ہوں کہ جسٹس جاوید اقبال اپنے نئے انتخاب کے بعد ملک کی بہتر خدمت کریں گے اورپاکستان جمہوری نظام کے تحت انتخابات کے سلسلے کو جاری رکھ پائے گا۔