اسلام آباد: جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

چیئرمین کی حیثیت سے چارج سنبھالتے ہی جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب کے سینئر افسران سے ملاقات کی، جن میں ڈائریکٹر جنرل آپریشنز، ڈائریکٹر جنرلز اور پراسیکیوشن ونگ کے افسران شامل تھے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے افسران کو پہلا ٹاسک دیتے ہوئے انہیں تمام ریفرنسز، انکوائریز اور اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے سارا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ وہ کوئی معاملہ التوا کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز سے نمٹنا ان کے لیے نئی بات نہیں ہے، اسامہ بن لادن کمیشن سمیت تمام بڑے کیسز پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں اور اب نیب مقدمات کے بھی نتائج دیں گے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ 'جبری لاپتہ افراد کے کمیشن کی رپورٹ آخری مراحل میں ہے، رپورٹ کو انجام تک پہنچاؤں گا اور اس کے بعد لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی چھوڑ دوں گا'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شریف خاندان کے خلاف جاری کیسز میرٹ کی بنیاد پر چلیں گے جبکہ ان کی نگرانی وہ خود بھی کریں گے۔

سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جاوید اقبال کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان اتفاق رائے کے بعد رواں ماہ 8 اکتوبر کو نیب کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جسٹس (ر)جاوید اقبال چیئرمین نیب مقرر

جس کے بعد وفاقی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی بطور نیب چیئرمین تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال 4 برس تک نیب چیئرمین کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال 2011 میں سپریم کورٹ کے جسٹس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے جس کے بعد انھیں ایبٹ آباد میں امریکا کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے حقائق سامنے لانے کے لیے بنائے گئے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

انھوں نے پاکستان میں لاپتہ افراد کے معاملے پر بننے والے جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین کے طور بھی کام کیا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال سے قبل قمر زمان چوہدری چیئرمین نیب کے عہدے پر تعینات تھے، جن کی مدت ملازمت رواں ماہ 10 اکتوبر کو ختم ہوگئی۔