سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن جبری گمشدگیوں میں ملوث افراد اور اداروں کو ذمہ دار قرار دینے میں ناکام ہوگیا۔

پارلیمانی کمیٹی نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن کا دعویٰ ہے کہ اس نے گزشتہ 6 برس کے دوران 2 ہزار لاپتہ افراد کے بارے میں پتہ لگایا ہے تاہم کمیشن نے کمیٹی کو ان لاپتہ افراد میں سے کسی ایک بھی شخص کا بیان ریکارڈ کرنے کے حوالے سے نہیں بتایا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سوال کیا کہ اب تک جو بھی لاپتہ افراد ’بازیاب‘ ہوئے، وہ تمام مردہ تھے لہٰذا کیا کمیشن نے اس سلسلے میں ملوث افراد یا اداروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا؟

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر فرحت اللہ بابر، ناصر محمد اور محمد محسن خان لغاری کی درخواست پر کمیشن کی جانب سے لاپتہ افراد کی تحقیقات کے سلسلے میں کارکردگی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’لاپتہ افراد‘ کے اہل خانہ کی غمزدہ کردینے والی کہانیاں

اجلاس کے دوران سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کمیشن کے قیام کے ضوابط اور سینیٹ کمیٹی کو پیش کی جانے والی رپورٹ کی روشنی میں کارکردگی کی جانچ پڑتال کی تجویز دی جس پر پارلیمانی کمیٹی کے تمام اراکین متفق ہوگئے۔

فرحت اللہ بابر کی جانب سے پیش کردہ پہلی تجویز کے مطابق لاپتہ افراد کی گمشدگی میں ملوث افراد اور اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جبکہ دوسری تجویز کے مطابق ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے گذشتہ دنوں ترک خاندان کے افراد کی اچانگ گمشدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں پاکستان میں غیر ملکی شہری بھی اغوا ہو کر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

کمیٹی اراکین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے جو کمیشن قائم کیا وہ عدالتی کمیشن نہیں لہٰذا اس کی کارکردگی کی جانچ پڑتال حکومت کی جبکہ اس کی نگرانی کی ذمہ داری پارلیمنٹ کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد پر گستاخی کے الزامات، اہل خانہ کی مذمت

کمیٹی اراکین نے سوال کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن کو کسی بھی عمارت یا گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے تو کیا کبھی اس کمیشن نے شواہد جمع کرنے کے لیے ان اداروں کے دفاتر پر چھاپہ مارا؟

فرحت اللہ بابر نے اجلاس کے دوران کہا کہ اگر کسی نہ کسی وجہ سے یہ کمیشن ان دو تجاویز پر کام کرنے سے قاصر ہے تو ہمیں اس معاملے کو دیکھنا ہوگا اور ساتھ ہی اس کمیشن کو اپنا کام موثر طریقے سے انجام دینے کے لیے با اختیار بنانا ہوگا۔

انہوں نے پہلے لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے پر زور دیا جبکہ مطالبہ کیا کہ موجودہ کمیشن کی جانب سے سراغ لگائے گئے 2 ہزار لاپتہ افراد کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس کے نتائج 3 ماہ کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جبری گمشدگی ایک سانحہ ہے جو قابلِ قبول نہیں۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد کی بازیابی:ملت جعفریہ پاکستان کی ’جیل بھرو’ تحریک کا آغاز

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں لاپتہ افراد کے اعداد و شمار کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جو کہ درستگی سے مشروط ہیں، رواں برس اگست تک 4 ہزار 3 سو 85 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے 2 ہزار 8 سو 99 کیسز کو خارج کردیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب بقایا 1 ہزار 3 سو 86 کیسز میں 793 لاپتہ افراد خیبر پختونخوا جبکہ 247 کا تعلق پنجاب سے ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک ایسے شواہد نہیں ملے جن کے مطابق خفیہ اداروں کو جبری گمشدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

جسٹس جاوید اقبال نے واضح کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور خفیہ اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اکثر اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے باضابطہ قانون موجود نہیں، اس کے علاوہ پاکستان میں بالخصوص قبائلی علاقوں میں جبری گمشدگی کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔

تاہم جسٹس جاوید اقبال کے بیان کے بعد سینیٹ کمیٹی کے اراکین نے پہلے قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔

کمیٹنی نے کمیشن کے سربراہ سے حراستی مراکز میں موجود افراد کا ڈیٹا اور ان کے کیسز کے بارے میں معلومات جمع کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔


یہ خبر 12 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی