پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں گرہ مٹ میں حال ہی میں ایک نوجوان لڑکی کو برہنہ کرکے تشدد کرنے کے واقعہ کا ذمہ داری مقامی انتظامیہ کو ٹھہراتے ہوئے اسے معاشرے کی کمزوری قرار دے دیا۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور ملزمان کو اگر پھانسی پر بھی چڑھا دیا جائے تو بھی اس لڑکی کی عزت واپس نہیں آسکتی۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج ہمارا معاشرہ اتنا بے حس کیوں ہوگیا ہے اور کافی دیر تک وہاں یہ سب کچھ ہوتا رہا، مگر کوئی بھی شخص اس لڑکی کی مدد کو نہیں آیا'۔

مزید پڑھیں: ڈی آئی خان: لڑکی پر تشدد کے الزام میں 7 افراد گرفتار

اس سوال پر کہ ایسا کون سا سیاسی اثر ورسوخ ہے، جس کی وجہ سے اصل ملزمان اب تک گرفتار نہیں ہو پائے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے پیچھے تحریک انصاف کے کسی بھی رہنما کے ملوث ہونے کا تاثر بلکل بے بنیاد ہے،کیونکہ کوئی بھی سیاستدان ہو وہ اس ظلم کی حمایت نہیں کرسکتا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اس معاملے پر خود چیئرمین عمران خان کا درِ عمل کیوں نہیں آیا، لیکن میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم سب نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے، جبکہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی'۔

علی محمد خان کاکہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت کے ان کی جماعت کے رہنما علی امین گنڈہ پور پر الزام لگایا جارہا ہے جو اس چیز سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے اور ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر ایسے واقعات کی اجازت دے گا تو وہ دنیا و اخرت دونوں میں تباہ ہوجائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: ’لڑکی کو برہنہ کرکے گھمانے کا واقعہ ملک کیلئے دھبہ‘

واضح رہے کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے دربان میں 27 اکتوبر کو ایک لڑکی پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا جبکہ بااثر افراد نے لڑکی کو پورے علاقے میں برہنہ بھی گھمایا تھا۔

گزشتہ روز متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں واقعے کا مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں تمام ملزمان کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

تشدد کا شکار لڑکی کے بھائیوں نے مقامی پولیس پر کارروائی میں غفلت برتنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا سے انصاف کی اپیل کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ایس ایچ او کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ان کی بہن کو سجاول اور ان کے ساتھیوں نے پانی کے تالاب سے اس وقت اٹھا لیا تھا جب وہ سہیلیوں کے ساتھ پانی لینے گئی تھیں، جس کے بعد وہ ایک گھر میں چھپ کر پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے باہر نکالا اور غیر قانونی طور پر حراست میں بھی رکھا۔