اسلام آباد: شریف خاندان کی ملکیت میں موجود اتفاق شوگر ملز نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ستمبر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا، جس میں لاہور ہائی کورٹ نے شوگر پلانٹ کو بہاولپور منتقل کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ اس شوگر مل کو 2015 میں ضلع پاکپتن سے بہاول پور منتقل کیا گیا تھا۔

تاہم اب درخواست گزار کے سینیئر وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ 2006 میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں پہلے سے چلنے والی شوگر ملز کی منتقلی پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کو شوگر ملز کی منتقلی سے روک دیا گیا

درخواست میں انہوں نے 15 افراد اور حکومتی اداروں، جن میں پنجاب چیف سیکرٹری، صوبائی سیکریٹریز برائے صنعت، کامرس اور انویسٹمنٹ، زرعی، محکمہ ماحولیاتی تحفظ، محکمہ غذا شامل ہیں، کو جواب دہندگان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

قبل ازیں جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز لیمٹڈ، اشرف شوگر ملز، انڈس شوگر ملز وغیرہ پر بھی ان شوگرملز کو منتقل کیے جانے کے خلاف پٹیشنز پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوچکی ہیں۔

اتفاق شوگر ملز نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ کے آگے موقف اختیار کیا تھا کہ پابندی کا اطلاق صرف نئی شوگر ملز کی تعمیر یا پہلے سے موجود شوگر ملز کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہوتا ہے جس کی وجہ سے درخواست گزار کا شوگر ملز کی منتقلی اس نوٹیفکیشن کے تحت نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کی 3 شوگر ملز کی جنوبی پنجاب منتقلی غیر قانونی قرار

تاہم اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت نے موقف اپنایا کہ ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے بعد ازاں پنجاب حکومت نے 4 دسمبر 2015 کو نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس پابندی کا اطلاق منتقل کی جانے والی شوگر ملز پر نہیں ہوتا۔

نوٹیفکیشن کو اتفاق شوگر ملز سمیت دیگر شوگر ملز کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس عائشہ ملک نے سماعت کے بعد نوٹیفکیشن کو مسترد کردیا۔

بعد ازاں اتفاق شوگر ملز کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل درج کرائی گئی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے 11 ستمبر 2017 کو اپنے اکتوبر 2016 کے فیصلے کو ختم کرتے ہوئے شوگر ملز کو 3 ماہ میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے۔

مزید پڑھیں: شریف خاندان کی 2 شوگر ملز سیل کرنے کا حکم

دوسری جانب حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست گزار کمپنی نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے فیکٹری کی بحالی اور اپنی پرانی حالت میں اسے واپس لانے پر غلط فیصلہ سنایا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں ان کی تجارت اور کاروبار کو اپنی مرضی کے مقام پر کرنے کے بنیادی حقوق کی پامالی کی گئی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اتفاق شوگر ملز کے ضلع پاکپتن میں قیام کے وقت وہاں 50 ہزار ایکڑ زمین پر گنے اگائے جاتے تھے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ 2013-14 میں وہاں صرف 8 ہزار ایکڑز پر گنے کی کاشت ہونے لگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کی 3 ’شوگر ملز‘ کے آپریشنز روکنے کا حکم

انہوں نے کہا کہ گنے کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے شوگر ملز اپنی صلاحیت سے کم کام کرنے پر مجبور ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا جبکہ دوسری جانب بہاول پور میں گنے کی پیداوار میں واضح طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں گنے کی پیداوار 4 لاکھ ایکڑ زمین پر کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شوگر ملز کی بہاول پور منتقلی سے کمپنی کی معاشی بحالی ہوسکے گی جو عوامی خزانے کے لیے بھی فائدے مند ثابت ہوگی۔


یہ خبر 7 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی