— فوٹو: آن لائن
— فوٹو: آن لائن

لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سیاست نہیں سمجھتے جبکہ امریکا کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت کہنا خطرناک بات ہے۔

نجی چینل ’جیو نیوز‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ ’امریکی صدر کے خطاب پر تحفظات ہیں، یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیام امن کے لیے جاری امن مذاکرات کا حصہ ہے اور اگر امریکا کہتا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سیاست نہیں سمجھتے، ہمیں متحد ہو کر انہیں یہ پیغام دینا ہے کہ وہ غلطی پر ہیں جبکہ فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیراعظم سمیت دیگر عالمی رہنما امریکی اعلان کی مذمت کرچکے ہیں۔‘

صادق خان کا کہنا تھا کہ ’اسلام اور مسلمانوں سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات اچھے نہیں، انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیں گے، تاہم امریکی صدر کو اسلام اور مسلمانوں سے متعلق اپنے خیالات بدلنے چاہیئیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: لندن کے میئر کی لاہور آمد، شہباز شریف سے ملاقات

امریکی صدر کے دورہ لندن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ سرکاری دورہ نہیں ہوگا، لندن میں ٹرمپ کے مداح نہیں ہیں اور اگر وہ لندن آئے تو انہیں بہت سے مظاہروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

پاکستان میں جمہوریت سے متعلق بات کرتے ہوئے میئر لندن نے کہا کہ ’پاکستانیو کو جمہوریت کی راہ میں آنے والی مشکلات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے، عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان تناؤ اچھی بات ہے، ایسا امریکا اور برطانیہ سمیت تمام ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں جمہوریت مضبوط ہے اور یہی نظام کی مضبوطی کی جانب قدم ہوتا ہے۔‘

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ اب تعلقات صرف بہتری کی طرف جائیں گے۔

مزید پڑھیں: متحد رہ کر دہشت گردی سے نمٹا جاسکتا ہے، صادق خان

انہوں نے کہا کہ ’میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سیاحتی اور تعلیمی تعلقات سے متعلق بہت پرامید ہوں اور میں نے برطانوی حکومت پر پاکستانی طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔‘

واضح رہے کہ صادق خان سرکاری دورے پر بدھ کو پاکستان پہنچے تھے اور وہ لندن کے پہلے میئر ہیں جنہوں نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔

وہ بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر کے دورے کے بعد براستہ واہگہ بارڈر پاکستانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور پہنچے تھے۔