کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں ایک گھر میں پولیس کی کارروائی کے دوران بزرگ فرید عالم جاں بحق ہوگئے جس کے بعد علاقے میں احتجاج شروع ہوگیا۔

جاں بحق شخص کے بھتیجے کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر پولیس افسر رات گئے بزرگ فرید عالم کے گھر ان کے بیٹے اور بہنوئی کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ گئے۔

سینیئر سپرینٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کورنگی نعمان صدیقی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی کالونی تھانے کے پولیس اہلکاروں نے سو کوارٹر میں جاں بحق ہونے والے شخص کے بیٹے اکرم بنگالی کو موٹر سائیکل چوری میں ملوث ہونے کے شبہے پر گرفتار کرنے کے لیے گھر میں چھاپہ مارا تھا۔

فرید عالم کے بھتیجے کا کہنا تھا کہ بزرگ نے اپنے بیٹے کو پولیس سے بچانے کی کوشش کی جس دوران اہلکاروں کے ساتھ تصادم ہوا اور انھیں چوٹیں آئیں۔

ایس ایس ایس نعمان صدیقی کے مطابق فرید عالم اپنے بیٹے کو پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے بچانے کی کوشش کے دوران گرنے کے باعث انتقال کر گئے۔

جاں بحق شخص کے بھتینے نے پولیس پر دباؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے فرید عالم کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن پولیس معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ پولیس نے متاثرہ خاندان کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرانے کا کہنا تھا لیکن انھوں نے خود ایسا کرنے سے انکار کیا۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ اے ڈی خواجہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی کو تفصیلی طور پر ادارہ جاتی اور قانونی رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ جو افسر اپنے اختیارات سے تجاوز کرے گا اس کی پولیس کے محکمے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔