بھارت کی ہتھیاروں کی دوڑ، نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اظہار تشویش

اپ ڈیٹ 21 دسمبر 2017

ای میل

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) نے پاکستان کی کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار اور قابل اعتماد کم سے کم دفاعی صلاحیت کی پالیسی پر کاربند رہنے اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہونے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا 23واں اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں وزیر دفاع خرم دستگیر، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈائریکٹر جنرل اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، سیکریٹری خارجہ امور تہمینہ جنجوعہ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو اسٹرٹیجک ماصول سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں بعض عدم استحکام سے متعلق اقدامات کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کو برقرار رکھنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو خطرناک چیلنجز سے کیسے نمٹنا چاہیے؟

عدم استحکام کے ان اقدامات میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی دوڑ، بحر ہند کے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرنا اور بی ڈی ایم کی تیاری و تنصیب کے منصوبے شامل ہیں۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے پاکستان کی کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور قابل اعتماد کم سے کم دفاعی صلاحیت کی پالیسی پر کاربند رہنے اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس میں جوہری سلامتی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور سکیورٹی سے متعلق اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) سمیت عدم پھیلاﺅ کے مختلف رجیمز کا حصہ بننے کے لیے ضروری اہلیت رکھتا ہے اور اس کے لیے پاکستان بلاامتیاز طریقہ کار کا حامی ہے۔