’کوئی ایسی عدالت ہوگی جو پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ کرے؟‘

اپ ڈیٹ 26 دسمبر 2017

ای میل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہوگی جو پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دے؟ لیکن اب یہ وقت آئے گا کہ مشرف کے خلاف فیصلہ آئے گا۔

لاہور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ کل پاکستان میں انتخابات ہورہے ہیں اور آپ ووٹ ڈالنے جارہے ہیں اگر یہی جذبہ رہا تو مخالفین کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور مسلم لیگ (ن) ایک مرتبہ پھر تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میرا پیغام اگر آپ کو پسند آئے تو اپنے گھر والوں کو ہمنوا بنائیں اور الیکشن تک یہ فورس اتنی طاقت ور بنائیں کے مخالفین کو بھی خوف آنے لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ 4 سال قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ لوڈشیڈنگ کو دفن کروں گا اور آج لوڈشیڈنگ دفن ہورہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل کام تھا اور نواز شریف ہمیشہ مشکل کام میں ہی ہاتھ ڈالتا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کیا، بے حساب کارخانے لگائے، شہباز شریف نے میرے کندھے سے کندھے ملا کر ساتھ دیا اور 18 مہینوں میں وہ منصوبے مکمل کیے جو پاکستان کی تاریخ میں 20 سال میں مکمل نہیں ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ طلب سے زیادہ ملک میں بجلی ہے اور یہ ایسا کارنامہ ہے جو تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 1999 میں جب مجھے جلا وطن کیا گیا تو کوئی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی نہیں تھی لیکن جب میں واپس آیا تو ملک میں دہشت گردی کی لہر تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے دہشت گردی کو 4 ماہ پہلے ہی ختم کردیا۔

پاناما کیس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں ترقی بند ہوگئی اور پاکستان کا زر مبادلہ کم ہوگیا ہے۔

چار سالوں میں اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ اوپر کی جانب گئی لیکن فیصلے کے بعد یہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہوگی جو پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ کرے؟ لیکن اب یہ وقت آئے گا کہ مشرف کے خلاف فیصلہ آئے۔

نوجوانوں اور پارٹی کے سوشل میڈیا کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ اس قوم کا سرمایہ ہیں، آپ امید اور یقین کا پیغام ہیں، نوجوان ہی قائد اعظم کی سپاہ کا ہراول دستہ تھے۔

انہوں نے کہا نوجوانوں کا مستقبل حال اور ماضی سے بہتر ہونا چاہیے اور انصاف کا ترازو ایک جیسا ہونا چاہیے، جہاں ایک وزیر اعظم کو اس گناہ میں عمر بھر کے لیے نااہل نہیں کردیا جائے کہ وزیر اعظم نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے ایک خیالی تنخواہ وصول نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ میری نااہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ آئین اور قانون کی نااہلی کا مسئلہ ہے اور اس کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، مجھے امید ہے کہ عوام انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو کہتے ہیں نواز شریف بزدل ہیں تو انہیں بتاتا چلوں کہ 2009 میں جان ہتھیلی پر رکھ کر عدلیہ کی آزادی کے لیے تحریک چلائی تھی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان الیکشن تو کبھی نہیں جیت سکتے اور ایمپائر کی انگلیوں کی جانب دیکھتے ہیں اور 2018 کے انتخابات میں عمران خان کلین بولڈ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدل کی بحالی نقطہ صرف منشور نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی تحریک کا حصہ ہوگا، جب عدل کو کھوٹہ سکا بنا دیا جائے تو عدالت کی ساخت بھی ختم ہوجاتی ہے، جب اس ملک میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہوگی تو عدلیہ کے ایوانوں کے سامنے سے ہر شخص سر جھکا کر گزرے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو نااہل کردیا جاتا ہے اور ایک لاڈلے کو اقرار جرم کے باوجود چھوڑ دیا جاتا ہے، دنیا بھر کا دستور ہے کہ انسان اس وقت تک معصوم اور بے گناہ ہے جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہوجائے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ایسا بنا دیا گیا ہے، جہاں کچھ کی آف شور کمپنیاں حلال اور کچھ کی حرام ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا بینیفیشل اونر ہونا جائز اور کچھ کا ناجائز ہے، انہوں نے کہا کہ ایک خاندان کے لیے جے آئی ٹی بنائی جاتی اور دوسروں کو چھوڑ دیا جاتا، یہاں دوہرا معیار اپنایا گیا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے سارے اثاثے ظاہر کیے ہوئے ہیں اور بیٹے سے نہ لینے والی تنخواہ کو اثاثہ بنا دیا گیا، مزہ تو تب آتا جب نواز شریف پر بدعنوانی سامنے آتی، آج تک مجھ پر 10 روپے کی کرپشن تو ثابت نہیں کرسکے اور مجھے نااہل کرنے کی سازش ڈھونڈی گئی۔

اس موقع پر نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کنونشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کی عوامی رابطہ موبائل ایپ متعارف کرائی، جسے ڈاؤن لوڈ کر کے عوام اپنے مسلم لیگ (ن) کے رپنماؤں سے رابطے کرسکتے ہیں۔

عوام پلس کردیں اسے کوئی مائنس نہیں کرسکتا، مریم نواز

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا تھا کہ جمہوریت میں کٹھ پتلیاں اور امپائر کی انگلیوں پر ناچنے والے نہیں ہوسکتے، 20 کروڑ لوگوں کی رائے پر 2 یا 5 لوگ اپنا نظریہ مسلط نہیں کرسکتے۔

مریم نواز لاہور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے—فوٹو: ڈان نیوز
مریم نواز لاہور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے—فوٹو: ڈان نیوز

لاہور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے نظریے کے مطابق جمہوریت میں ملاوٹ نہیں ہوسکتی، نظریہ جمہوریت میں نظریہ ضرورت نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے آسان راستے پر صحیح راستے کو ترجیح دی اور اس میں نواز شریف پر مشکلات آئیں پھر بھی انہوں نے یہی راستہ اختیار کیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جسے عوام پلس کردیں اسے کوئی مائنس نہیں کرسکتا، نواز شریف پر جب بھی آزمائش آئی وہ اس سے کندن بن کر نکلے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف تمام مشکلات کے باوجود عوام کے لیے ڈٹے رہے اور ان پر اس وجہ سے مشکلات بھی آئی، ’جس کو عوام پلس کردیں اسے کوئی مائنس نہیں کرسکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں شروع ہونے والا سوشل میڈیا آج پاکستان کی گلی گلی میں پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے مخالفین ن لیگ کی سوشل میڈیا فورس سے ڈرتے ہیں اور ہمارے کارکنوں نے اس میدان میں مخالفین کو دھول چٹا دی۔