اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ پہاڑیوں پر درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے کیپٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو 2 ماہ میں قوانین بنانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مارگلہ پہاڑیوں پر درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

مزید پڑھیں: ’انسانی حقوق کے مسائل سپریم کورٹ کے ایجنڈے پر سرفہرست‘

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس 19 مئی 2016 کو اس وقت لیا جب ایک نجی چینل پر انکشاف کیا گیا تھا کہ بعض بااثر شخصیات کی جانب سے مارگلہ کے جنگلات کی کٹائی اور سیمنٹ فیکٹری سے قدرتی ماحول کو سخت خطرہ لا حق ہوگیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وزیر مملکت برائے کیپٹل ایڈمنسٹریشن اور ڈولپمنٹ ڈویژن طارق فضل چوہدری کے درمیان مکالمہ ہوا۔

مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہا جاتا ہے کہ عدالتی اصلاحات نہیں ہورہیں، بتایا جائے نظام عدل میں اصلاحات لانا کس کا کام ہے؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آج تک پارلیمنٹ نے نظامِ عدل میں اصلاحات کے لیے کتنے قوانین بنائے؟

یہ بھی پڑھیں: قوانین کے منافی ترقیوں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل

چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم نظامِ عدل میں اصلاحات لے کر آئیں گے، پھر کوئی یہ نہ کہے کہ سپریم کورٹ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کررہی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے اس کیس کی سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کردی جس کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔