زینب کے قاتل کی گرفتاری:چیف جسٹس کی احمد قصوری کے دعوے کی تردید

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2018

ای میل

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خود سے منسوب احمد رضا قصوری کے بیان کی تردید کردی۔

ترجمان سپریم کورٹ سے جاری بیان کے مطابق چیف جسٹس نے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے رہنما احمد رضا قصوری سے کمسن بچی زینب کے قتل کے ملزم کی گرفتاری سے متعلق بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس اور احمد رضا قصوری کی ملاقات کے دوران بچی کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے چلنے والی باتوں پر بات ہوئی کہ کیا یہ سچ ہے یا نہیں، اس سے متعلق کچھ معلوم نہیں۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے یہ قطعاً نہیں کہا گیا کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور یہ ان کے علم میں ہے۔‘

واضح رہے کہ سینئر وکیل احمد رضا قصوری نے دعویٰ کیا تھا کہ ننھی بچی زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں بتایا ہے کہ زینب کا قاتل کوئی قریبی رشتے دار ہے۔

ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں جمعرات (11 جنوری) کو چیف جسٹس کے چیمبر میں گیا اور واقعے پر از خود نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا تو انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مجھے ملزم کے نام اور رشتے سے متعلق نہیں پتہ، تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کوئی قریبی رشتے دار ہے۔

مزید پڑھیں: زینب قتل واقعے سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا، چیف جسٹس

احمد رضا قصوری نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ بچی اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر سکون سے جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قصور میں پرتشدد واقعات روکے جاسکیں۔

زینب قتل، 100 افراد کے این اے کے نمونے لیے گئے ہیں، وزیر قانون

سینئر وکیل احمد رضا قصوری کے دعویٰ پر وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس جو اطلاعات ہیں اس کہ مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور 100 کے قریب لوگوں کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث ملزم کو جلد گرفتار کرلیں گے اور اس کی گرفتاری سے ذرائع ابلاغ کو بھی آگاہ کریں گے۔

زینب قتل، کب کیا ہوا؟

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔

جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت اس کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تھی، ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا، تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ننبھی بچی کو ایک شخص کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ پولیس نے اس ویڈیو اور اہل علاقہ کی مدد سے ملزم کا خاکہ بھی جاری کیا گیا تھا۔

دوسری جانب زینب کی قتل کے بعد سے ضلع بھر کی فضا سوگوار رہی اور ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور فیروز پور روڈ بند کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 8 سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے کے دوران ہلاک

اس واقعے میں شدت تب دیکھنے میں آئی جب اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بھول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

10 جنوری کو بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے ننھی زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔