زینب قتل: 227 افراد سے تفتیش، 64 ڈی این اے ٹیسٹ کا مشاہدہ

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2018

ای میل

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے قصور واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زینب کے قتل میں ملوث مجرم کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، جبکہ اس سلسلے میں 227 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور علاقے کا جیو فینسنگ ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کی شناخت کے لیے فرانزک لیبارٹری سے مدد لی جارہی ہے اور اسے سلسلے 64 ڈی این اے ٹیسٹ کا مشاہدہ کیا گیا۔

دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے قصور میں 6 سالہ بچی کے قتل پر کہا ہے کہ زینب قوم کی بیٹی تھی، اس واقعے سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔

سپریم کورٹ میں دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زینب کے قتل پر پوری قوم افسردہ ہے، اس واقعہ پر مجھ سے زیادہ میری اہلیہ پریشان تھیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس واقعے میں دکھ اور سوگ اپنی جگہ لیکن ہڑتال کی گنجائش نہیں بنتی۔

زینب کے والد کو حکومت سے انصاف کی توقع نہیں، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد قصور واقعے پر پوری قوم کو تکلیف ہوئی۔

بنی گالہ میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں ایسے واقعے بار بار نہیں ہوتے، زینب کے والد کو حکومت سے انصاف کی توقع نہیں ہے اس لیے انہوں نے آرمی چیف اور چیف جسٹس سے اپیل کی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جب قصور میں بچوں کے ساتھ ویڈیو زیادتی والا واقعہ ہوا تھا اگر اسی وقت ایکشن لے لیتے تو آج یہ نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ قصور میں یہ بارہویں بچی کے ساتھ ایسا ہوا، افسوس ہے کہ پنجاب حکومت کہتی ہے کہ اپنے بچوں کا خیال خود کریں۔

حکمران شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہوچکے، طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ اب قصور کے واقعے سے جڑ گیا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمران بے حس ہوچکے ہیں اور شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے جرم کو ختم کرنا ہے اور قرار واقعی سزا دینی ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب کو برطرف کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی سطح کے پولیس اہلکاروں کو او ایس ڈی بنانے سے کام نہیں چلے گا، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو او ایس ڈی بنانا چاہیے۔

واقعے پر جنگل کے درندے بھی شرمندہ ہیں، سراج الحق

دوسری جانب زینب کے قتل کے بعد جمعرات (11 جنوری) کو جماعت اسلامی پاکستان کے امیر اور سینیٹر سراج الحق نے قصور کا دورہ کیا اور مظاہرین سے خطاب کیا۔

مزید پڑھیں: 'بچوں سے زیادتی کے واقعات پر حکومت سنجیدہ نہیں'

انہوں نے کہا کہ معصوم بچی کو پہلے اغوا کیا گیا اور اس کے کچھ روز بعد قتل کیا گیا لیکن 5 روز تک پولیس کی جانب سے اس کی بازیابی کے لیے کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتول زینب کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر جنگل کے درندے بھی شرمندہ ہیں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ اگر یہی کسی رکن اسمبلی یا سینیٹر کی بیٹی ہوتی تو حکمران یہاں موجود ہوتے لیکن زینب ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امیر کا کتا بھی غائب ہوجاتا ہے تو کارروائی دیکھنے میں آتی لیکن اس ملک میں غریبوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پولیس عوام کے بجائے وی آئی پیز کی حفاظت کرتی ہے اور اس واقعے کے بعد رکن اسمبلی قصور کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 2015 سے ہونے والے ریپ اور قتل کے 8 کیسز کے پیچھے 'سیریل کلر' ملوث

انہوں نے کہا ’زینب پاکستان کے عوام اور کرپٹ عناصر کے خلاف فریاد بن گئی اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس فریاد کی وجہ سے ہماری زمین پر کوئی قہر نازل نہ ہو، اس لیے اللہ کے اس قہر اور غضب سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ظالموں کو انجام تک پہنجایا جائے۔‘

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ قصور میں اس طرح کا یہ 12واں واقعہ ہے اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو عوام کے سامنے کھڑے ہو کر جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کو شرم آنی چاہیے کہ جب زینب کی لاش کو برآمد کیا گیا تو زینب کے خاندان والوں کو کہا گیا ’پولیس کو 10 ہزار روپے دیے جائیں کہ انہوں نے لاش کو برآمد کرلیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ظلم کے اس نظام کو زندہ درگور کرنے کے لیے جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا جائے۔

وزیر قانون کا زینب قتل کیس میں اہم پیش رفت کا دعویٰ

ادھر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے زینب قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان نے زینب کے اہل خانہ سے رابطہ کرلیا ہے جبکہ قاتل کو جلد گرفتار کرکے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ زینب کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی نے فائرنگ کا حکم نہیں دیا تھا یہ ان اہلکاروں کا غیر ذمہ دارانہ فعل تھا۔

سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع

قصور میں 6 سالہ زینب کے قتل کے خلاف سندھ اسمبلی میں مذمتی قراد داد پیش کردی گئی۔

قرار داد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) پاکستان، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی ارکان کی جانب سے پیش کی گئی۔

قرار داد میں زینب کے قتل کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ قاتل کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

زینب قتل، کب کیا ہوا؟

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔

جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت اس کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تھی، ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا، تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ننبھی بچی کو ایک شخص کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ پولیس نے اس ویڈیو اور اہل علاقہ کی مدد سے ملزم کا خاکہ بھی جاری کیا گیا تھا۔

دوسری جانب زینب کی قتل کے بعد سے ضلع بھر کی فضا سوگوار رہی اور ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور فیروز پور روڈ بند کردیا گیا تھا۔

اس واقعے میں شدت تب دیکھنے میں آئی جب اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بھول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

10 جنوری کو بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے ننھی زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی