اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نرخ میں تفریق ہے جبکہ یہ کمپنیاں حکومت کو ادا کیے جانے والے ٹیکس سے زائد ٹیکس صارفین سے وصول کرتی ہیں۔

ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) محمود اسلم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بتایا ’ نجی موبائل کمپنی ٹیلی نار کی جانب سے ادارے کے ویب پورٹل پر دی جانے والی تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ برس جولائی سے نومبر تک حکومت کو 26 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اضافی ٹیکس ادا نہیں کیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز (11 جنوری کو) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنی سے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی کے طریقہ کار بات چیت کی گئی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیلی نار پاکستان کے خلاف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ کمپنی سے اس معاملے میں وضاحت بھی طلب کر لی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: موبائل صارفین کا ڈیٹا ایف بی آر کو دینے کی منظوری

ڈی جی ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ جیسے ہی کمپنی کی جانب سے جواب داخل کیا جائے گا ویسے ہی کمیٹی کو اس کی واضح تفصیل کے بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنے صارفین کو ٹاک ٹائم کم فراہم کر رہی ہیں جبکہ ان سے اضافی نرخ وصول کر رہی ہیں۔

کمیٹی ممبران نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ ٹیلی کام کمپنیاں ٹیکس چوری میں بھی ملوث ہیں، تاہم ایف بی آر کروڑوں کی تعداد میں صارفین کی ٹرانزیکشن کا ڈیٹا حاصل کرنے کا طریقہ کار نا ہونے کی وجہ سے ان الزامات کی تصدیق نہیں کر سکتی۔

تاہم ڈی جی ایف بی آر محمود اسلم نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے نے ٹیلی کام کمپنیوں سے محصولات حاصل کرنے میں بہتری کے لیے طریقہ کار تیار کیا گیا ہے جس نے حکومت کو موجودہ ٹیکس وصولی کے موجودہ نظام میں خرابی کو ختم کرنے فعال بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موبائل فون سروس کا آغاز

بریفنگ کے دوران محمود اسلم نے بتایا کہ روز مرہ کی بنیاد پر تمام موبائل آپریٹرز کی کروڑوں ٹرانزیکشنز کا تجزیہ لگانے کے لیے ادارے نے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کمپنیوں کے ودہولڈنگ ٹیکس کی موثر نگرانی کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام موبائل آپریٹرز کمپنیوں کو ماہانہ بنیادوں پر تمام صارفین کی ٹرانزیکشن کا ڈیٹا پورٹل پر اپلوڈ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ موبائل کمپنیوں نے ابتداء میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایف بی آر سے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی مدد حاصل کرنے تک تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔

تاہم نئے نظام کے تحت اب ایف بی آر موجود سال کے تمام صارفین کی ٹرانزیکشن کا ڈیٹا حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے گزشتہ پانچ سالوں کا ڈیٹا بھی حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیلی نار کے کیس میں ایف بی آر کے افسران نے صارفین سے وصول کیے گئے ٹیکس کے حوالے سے آڈٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ادارہ ٹیکس وصولی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دیگر کمپنیوں کا بھی آڈٹ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ہدایت

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ چار موبائل کمپنیاں حکومت کی ٹیکس کی مد میں 8 ارب 90 کروڑ روپے کی نادہندہ ہیں جبکہ 6 ارب 20 کروڑ روپے کے انکم ٹیکس کو کمپنیوں نے عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے۔

کمیٹی چیئرمین اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیٹر شاہی سید نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اب تک کل ٹیکس میں موجود تضاد کو نہیں معلوم کرسکی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق موبائل کمپنیاں حکومت کی 7 سے 10 ارب روپے کی نادہندہ ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ایف بی آر کو گزشتہ دس سالوں کا ودہولڈنگ ٹیکس کا آڈت کرنا چاہیے۔

شاہی سید نے ڈی جی ایف بی آر کو تمام موبائل آپریٹرز کمپنیوں سے ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ 24 جنوری کو طلب کر لی۔


یہ خبر 12 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی