کراچی: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ اور اقتصادی امور ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاری اور پیسے لانے کے لیے حکومت بہت جلد ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرے گی۔

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ قومی معیشت اور ترقی کی شرح کو بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ اسکیم میں حکومت غیر ملکی زرمبادلہ لانے والوں اور دیگر ممالک میں اپنی جائیداد دکھانے والوں کو محصولات میں ریلیف فراہم کرے گی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے آباد کے ارکان پر زور دیا کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بننے والے اقتصادی زون میں کاروباری سرگرمیاں شروع کریں۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

انہوں نے کہا کہ مقامی بلڈرز اور ڈویلپرز کو چینی تاجروں جتنی مراعات فراہم کی جائیں گی اور حکومت ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تعمیراتی شعبے کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی۔

آباد ارکان سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لیے مقرر کردہ فکسڈ ٹیکس کا نظام ( ایف ٹی آر) کو دوبارہ بحال کرنے کا اشارہ دیا، انہوں نے ایف ٹی آر کو ایک اچھا قدم قرار دیتے ہوئے اس پر مزید تبادلہ خیال کے لیے آباد ممبران کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔

واضح رہے کہ 17-2016 کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے ایف ٹی آر متعارف کرایا گیا تھا لیکن اسے 18-2017 میں ختم کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آمدنی واحد مقصد نہیں، حکومت قومی معیشت اور ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت محصولات کی بنیاد کو بڑھانے اور ان کی شرح کم کرنا چاہتی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت ترقی کی شرح 9 فیصد تک بڑھانا چاہتی ہے لیکن غربت کی وجہ سے اس شرح کو موجودہ ہدف 6 فیصد کے بجائے 10 فیصد تک بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پر امید ہے کہ رواں مالی سال میں 4 کھرب روپے کا آمدنی ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر نے کم لاگت ہاؤسنگ یوٹنس کی تعمیر کے لیے بورڈ کے قیام کا اعلان کیا اور آباد کے سرپرست محسن شیخانی کو بھی اس کے رکن کے طور پر شامل کیا۔

اس موقع پر محسن شیخانی نے کہا کہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی جانب سے حکومت کو کم لاگت ہاؤسنگ اسکیمز کے لیے زمین کی فراہمی کے لیے نہیں کہا گیا۔

پاکستان کو ایک کروڑ 20 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی کمی کا سامنا ہے، مزید یہ کہ تعمیراتی شعبے میں 70 سے زائد صنعتوں کا اضافہ ہوا ہے۔

آباد کے چیئرمین عارف یوسف جیوا نے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے باعث مقامی صنعتوں، جیسا کہ اسٹیل کے شعبے نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک ملک میں خوشحالی لائے گا لیکن مقامی بلڈرز اور ڈویلپرز کو بھی اس راہداری سے منسلک منصوبوں میں ان کے حصول کا حصہ بھی دیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: اوبر پاکستان میں مزید 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو مشینری کی درآمدات پر محصولات کے ریلیف سے مقامی سرمایہ کاروں پر اثر پڑے گا۔


یہ خبر 14 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی