نئی دہلی: بھارت کی وزیر دفاع نرملا ستھیارامان نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کو جموں کے حصے سنجوان میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کی قیمت چکانا پڑے گی۔

بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سنجوان میں فوجی کیمپ پر حملے میں جیش محمد کے عسکریت پسند ملوث تھے اور پاکستان کی جانب سے ان دہشت گردوں کو مدد فراہم کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے یہ دھمکی آمیز بیان اس وقت سامنے آیا، جب اسلام آباد نے نئی دہلی پر زور دیا تھا کہ وہ جنگی جنون کو فروغ نہ دے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے بیس پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی

اس حوالے سے نرملا ستھیارامان نے جموں کی سیکیورٹی کی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ جیش محمد کا سربراہ مسعود اظہر ہے جبکہ اسے مقامی طور پر حمایت حاصل ہے۔

بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ ’میڈیا کے مخصوص حصوں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں بتایا جارہا ہے اور ہمیں امید ہے عالمی برادری پاکستان کی جانب سے جنگی جنون کے خلاف بھارت کی سمیئر مہم کو سنجیدگی سے لے گی‘۔

دوسری جانب پاکستان کے وزارت خارجہ کی جانب سے بھارتی میڈیا کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے نرملا ستھیارامان کے دعووں کے بارے میں بتایا کہ ’دہشت گردوں کا تعلق جیش محمد سے تھا جنہیں پاکستان میں رہنے والے مسعود اظہر کی حمایت حاصل تھی‘۔

پاکستان پر 5 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا براہ راست الزام لگاتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’انٹیلی جنس کی بنیاد پر پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردوں کو ان کے ہینڈلر کی جانب سے سرحد پار سے کنٹرول کیا جارہا تھا جبکہ نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی (این آئی اے) کی جانچ پڑتال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پیر پنجال کے جنوبی حصے میں دہشت گردی کو بڑھا رہا ہے اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس حملے سے متعلق تمام ثبوتوں کو ایک جگہ کیا گیا ہے جو پاکستان کو فراہم کیے جائیں گے، تاہم ثبوت پر ثبوت فراہم کرنے کے باوجود پاکستان ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا‘۔

بھارتی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ثبوتوں کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے اور ہر مرتبہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اس کا ذمہ دار ہے لہٰذا پاکستان کو اس غلطی کی قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: کشمیر: بھارتی فورسز کے کیمپ پر حملہ، 2 اہلکار ہلاک

اس سے قبل نرملا ستھیارامان نے علاقے کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملاقات کی اور زور دیا کہ جموں حملے اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پاکستان سے قتل و غارت بند کرنے کے معاملے پر جاری مذاکرات ختم کریں۔

دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ سنجوان فوجی کیمپ پر حملے کے کچھ گھنٹوں بعد متنازع علاقے میں دہشت گردوں نے ایک اور پیراملٹری کیمپ پر حملہ کیا، جس میں ایک فوجی ہلاک ہوا۔


یہ خبر 13 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی