پیرس: القاعدہ کے اہم رکن اور یورپ پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث فرانسیسی شہری نامین میزچی کے خلاف مقدمے کا آغاز ہو گیا۔

واضح رہے کہ مشتبہ ملزم کو پاکستان میں 2012 میں گرفتار کیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ زیر حراست ملزم القاعدہ کے ‘ہیمبرگ سیل’ سے منسلک تھا جس نے امریکا میں نائن الیون منصوبہ تیار کیا تھا۔

یہ پڑھیں: افغانستان: ’القاعدہ برصغیر کی سینئر قیادت سمیت متعدد ہلاک‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے اے ایف پی کے مطابق نامین نے 90 کی دہائی میں افغانستان کا سفر کیا اور اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی یونس الموریطانی سے ملاقات کی۔

یونس الموریطانی نے ہی نامین میزچی کو ہیمبرگ سیل چلانے ذمہ داری سونپی تاکہ یورپ میں پر تشدد کارروائیاں کی جا سکیں۔

نامین نے مارچ 2009 میں دوسرا سفر کیا تب ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈین جوڑے کی پانچ سالہ قید کا ڈرامائی اختتام

دوسری جانب 47 سالہ نامین نے اپنے اوپر لگائے الزامات کی تردید کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ جرمنی واپس آنے کے لیے مجبوراً القاعدہ میں شمولیت کرنی پڑی کیوںکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

پراسیکیوٹرز کا موقف تھا کہ نامین ہیمبرگ مسجد جایا کرتا تھا جہاں پر نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی۔

فرانسیسی انٹیلی جنس افسر نے عدالت کو بتایا کہ نائن الیون حملوں کے بعد نامین کی شادی مسجد کے سلفی امام محمد فیاضی کی بیٹی سے کردی گئی جس کے بعد نامین کے لیے القاعدہ کی قیادت تک رسائی کے تمام راستے ہموار ہوگئے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ‘نامین کو کچھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی تاہم وہ کون سی ذمہ داریاں تھیں اس کا ٹھیک اندازہ نہیں لگایا جاسکا’۔

مزید پڑھیں: جہادی نظریہ کو نئی زندگی

نامین کو پاکستان میں دیگر تین فرانسیسی کے ہمراہ گرفتار کیا جنہیں بعدازاں ڈی پورٹ کردیا گیا۔

دیگر تینوں فرانسیسوں کے خلاف مقدمہ دائر ہوا اور 2014 میں انہیں پانچ برس کی قید سنائی گئی ۔


یہ خبر 13 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی