واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی سول اور عسکری امداد کے لیے 33 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی امداد منظور کرے کیونکہ اس تجویز کردہ فوجی امداد سے القاعدہ اور عسکریت پسند گروپ داعش (آئی ایس) کو شکست دینے میں مدد حاصل ہوگی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجویز کردہ امداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 1 کروڑ ڈالر کم ہے جبکہ دفاعی امداد کا تعلق اسلام آباد کی جانب سے اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے تجویز کردہ فوجی امداد میں غیر ملکی فوجی امداد ( ایف ایم ایف) فنڈ سے 80 کروڑ ڈالر شامل کیے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے 10 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 2 کروڑ ڈالر کم ہیں۔

اسی طرح 2017 میں انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے 24 کروڑ 22 لاکھ 50 ہزار ڈالر وصول کیے گئے تھے جبکہ 2019 کے مسودہ میں 2017 سے ایف ایم ایف کے فنڈز کو بھی جمع کیا گیا ہے اور اس میں غیر ملکی متوقع آپریشن ( او سی او) کے 24 کروڑ 22 لاکھ 50 ہزار ڈالر شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کیلئے امداد ’امریکی بجٹ تجاویر‘ میں شامل

واضح رہے یہ فنڈ پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اسلام آباد کے مبینہ طور پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے رابطے کے باعث گزشتہ برس مخصوص کی گئی رقم بڑی تعداد میں جاری نہیں ہوسکی۔

اس حوالے سے گزشتہ ماہ 4 جنوری کو اسلام آباد کی سیکیورٹی امداد معطل کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ تجویز کردہ فوجی امداد سے پاکستان کی دہشت گردوں سے لڑنے، سیکیورٹی اور استحکام میں صلاحیت کی حمایت کرکے امریکا کے قومی سیکیورٹی مفادات کو آگے بڑھانا ہے‘۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہا کہ تجویز کردہ امداد دہشت گردوں اور عسکریت پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے میں پاکستان کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو سراہے گی۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے زور دیا کہ ان صلاحیتوں سے قبائلی علاقوں سمیت افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے‘

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہا کہ تجویز کردہ فوجی امداد پاک امریکا مقاصد کے حصول میں مدد کرے گی جبکہ القاعدہ، دائش خراساں صوبہ سمیت دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ کوششوں کو بھی فروغ ملے گا۔

یہ غیر مشروط بجٹ درخواستیں اکنامک سپورٹ فنڈ اور ترقیاتی فنڈز کی جانب سے 2018 اور 2019 کے لیے 20، 20 کروڑ ڈالر سالانہ مختص کیے گئے ہیں جبکہ اس میں 2017 کے 20 کروڑ ڈالر کا علیحدہ سے ذکر کیا گیا ہے اور یہ امداد کسی معطلی کے حکم سے متاثر بھی نہیں ہوگی۔

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلان کے بعد فوجی امداد جاری ہونے کے قریب ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد افغان طالبان کو شکست دینے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوتا ہے تو سیکیورٹی امداد بھی فوری واپس بحال ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی فوجی تعلیم اور تربیت ( آئی ایم ای ٹی ) فنڈز کے تحت 35 لاکھ ڈالر کی علیحدہ امداد کی درخواست بھی زیر غور ہے، جو معطلی کے حکم سے متاثر نہیں ہوگی۔

ساتھ ہی امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ عالمی خطرے میں کمی کے پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے 6 کروڑ 70 لاکھ کا بھی منتظر ہے۔

اس کے علاوہ دیگر درخواست میں بین الاقوامی منشیات کنٹرول اور قانون نافذ کرنے والے فنڈز سے 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد بھی شامل ہے جبکہ 2017 میں پاکستان نے اسی فنڈز کے ذریعے 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر وصول کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان انتہاپسندوں کے حوالے سے تاحال پرسکون ہے، امریکی انٹیلی جنس چیف

ان فنڈز کے علاوہ آئندہ مالی سال میں عالمی صحت پروگرامز فنڈز کے تحت ’یو ایس ایڈ‘ کی مد میں پاکستان کو 2 کروڑ 25 لاکھ ڈالر امداد دی جائے گی۔

امریکا کی جانب سے 2019 کے بجٹ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور یو ایس ایڈ کی فنڈنگ میں 25 فیصد تک کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے عمل ہونے سے یہ فنڈز 53 ارب 10 کروڑ سے کم ہو کر 39 ارب 30 کروڑ ہوجائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے فروغ کے لیے مخصوص فنڈز میں بھی 40 فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے آغاز سے متعلق گزشتہ برس 16 کروڑ ڈالر حاصل کیے گئے تھےجبکہ 2019 کے بجٹ میں اس میں کوئی فنڈز موصول نہیں ہوا۔


یہ خبر 14 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی