پاکستان عوامی تحریک اور ہائی کورٹ کے دو وکلاء کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نام سے نواز شریف کا ’نواز‘ ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی گئی۔

درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف پارٹی صدارت سے نااہل ہوگئے ہیں، اس لیے ان کے نام سے رجسڑیشن نہیں ہو سکتی۔

درخواستیں پاکستان عوامی تحریک کے رہنماء خرم نواز گنڈا پور، ایڈووکیٹ ابرار حسین رضا اور ایڈووکیٹ مخدوم محمد نیاز انقلابی کی جانب سے دائر کی گئیں۔

درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ نااہل شخص کے نام پر پارٹی کی رجسٹریشن غیر قانونی ہے، لہٰذا نواز شریف کو پارٹی اجلاس کی صدارت سے بھی روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نااہل شخص کسی پارٹی کا رکن بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کی قیادت کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کے تحت نااہل قرار پانے والے فرد کو سیاسی جماعت کا صدر منتخب نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھیں:انتخابی اصلاحات کیس: نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار

انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی 17 درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے فیصلے میں نواز شریف کے نااہلی کے بعد بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف فیصلے کے بعد جب سے پارٹی صدر بنے تب سے نااہل سمجھے جائیں گے۔

عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی بھی کالعدم ہوگئی اور مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ ہوگئے تھے۔

کب، کیا ہوا؟

گزشتہ برس اکتوبر میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی پارلیمنٹ سے منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں قانون دان ذوالفقار بھٹہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا منظور کردہ بل آئین کی روح سے متصادم ہے، کیونکہ اس کے تحت عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی صدارت کے لیے اہل قرار پائے گا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل ’63 اے‘ کے تحت پارٹی صدر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی اہم امور پر قانون سازی کو کنٹرول کرتا ہے اور اگر اہم امور پر کوئی رکن پارلیمنٹ پارٹی صدر کی مرضی کے خلاف ووٹ دے تو اس کا کیس الیکشن کمیشن کو نااہلی کے لیے بھجوایا جاتا ہے۔

6 نومبر 2017 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

22 نومبر کو چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کو چیلنج کرنے پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت 9 درخواست گزاروں نے ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف پاناما کیس میں نااہلی کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے اہل ہوگئے تھے۔

گزشتہ برس 22 دسمبر کو سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات بل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کو پارٹی کا نیا صدر منتخب کرکے کمیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کو نیا پارٹی صدر منتخب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت نااہل شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے بعد حکمراں جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر سردار یعقوب کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کیا گیا تھا۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرنے کے سلسلے میں ایک رکاوٹ کا سامنا تھا، جس کے لیے انتخابی اصلاحاتی بل 2017 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے تحت نااہل شخص بھی پارٹی کا صدر منتخب ہوسکتا ہے۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ترمیم پیش کی کہ جو شخص اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا جس کے بعد بل پر ووٹنگ ہوئی۔

حکومت نے محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق 203 میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کردی۔

مذکورہ بل کی منظوری کے بعد آرٹیکل 62 اور 63 کی وجہ سے نااہل ہونے والا شخص بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل ہوگا۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو باآسانی مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ صدر منتخب کرنے لیے پارٹی آئین میں بھی ترمیم کردی گئی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے دفعہ 120 کو ختم کردیا، جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگئے۔