انتخابی اصلاحات کیس: نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار

اپ ڈیٹ 21 فروری 2018

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل ہوگئے۔

انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس کا متفقہ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا۔

چیف جسٹس نے کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا یا نااہل شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، جبکہ اس فیصلے کا اطلاق اس وقت سے ہوگا جب اسے نااہل قرار دیا گیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں درج ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے اور عوام کے منتخب نمائندے اللہ کی طرف سے دیا گیا اختیار امانت سمجھ کر استعمال کرنے کے پابند ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بااختیار ہوتا ہے اور سیاسی جماعتیں ملک کی حکومت چلاتی ہیں، پارلیمنٹ کے امور چلانے کے لیے پارلیمنٹیرینز کا اعلیٰ اخلاق کا ہونا ضروری ہے، آئین پاکستان بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، ایسوسی ایشن یا پارٹی بنانا ہر شخص کا حق ہے، لیکن اس کے لیے اخلاقیات پر پورا اترنا بھی ضروری ہے۔

فیصلے میں نواز شریف کے نااہلی کے بعد بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف فیصلے کے بعد جب سے پارٹی صدر بنے تب سے نااہل سمجھے جائیں گے۔

عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی بھی کالعدم ہوگئی اور مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ ہوگئے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت بنانے کا حق آئین فراہم کرتا ہے، آئین کے کسی دوسرے آرٹیکل سے اس بنیادی حق کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: انتخابی اصلاحات بل کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں تاہم صدر سے منظوری کے بعد قانون کا جائزہ مختلف تین بنیادوں پر لیا جاتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون سازی بنیادی حقوق کے منافی ہو تو جوڈیشل نظر ثانی ہوسکتی ہے۔

رانا وقار کا کہنا تھا کہ آئین کی بنیاد جمہوریت ہے، آئین کے آرٹیکل 17 کے آگے کسی دوسرے آئینی آرٹیکل کی رکاوٹ نہیں لگائی جاسکتی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے عدالت صرف آرٹیکل 17 کو مدنظر رکھے جس پر رانا وقار نے کہا کہ آرٹیکل 17 کا سب سیکشن سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 17 کےسب آرٹیکل 2 پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے۔

شیخ رشید احمد کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے جواب الجواب دلائل میں کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ تمام بنیادی حقوق اخلاقیات کے خلاف نہیں ہونے چاہیں، ایسا شخص جو آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا تو یہ معاملہ عوامی اقتدار کا معاملہ ہے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے غلط کام کرنا بھی جائز نہیں، کوئی ایسا شخص جس کے خلاف بدعنوانی، ڈرگ مافیا یا چوری کا ڈکلئیریشن ہو وہ کیسے پارٹی سربراہ بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ کوئی ربڑ اسٹمپ یا پوسٹ آفس نہیں بلکہ وہ ہدایات دینے کا اختیار رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی اصلاحات بل کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج

چیف جسٹس نے کہا کہ میں صرف اس کیس کے لیے خصوصی طور پر بات نہیں کر رہا، تمام چیزیں پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی ہیں، لوگ پارٹی سربراہ کے کہنے پر چلتے ہیں اورپارٹی سربراہ پر لوگ جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا نظام امریکا سے مکمل طور پر مختلف ہے۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہمارا سیاسی نظام کئی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے، سینیٹ ٹکٹ کے اس شخص نے جاری کیے جو نااہل ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی پارلیمینٹیرین کوچور اچکا نہیں کہا بلکہ مفروضے پرمبنی سوالات کررہے تھے، الحمداللہ اور ماشااللہ کے لفظ اپنی لیڈر شپ کے لیے استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہماری لیڈر شپ اچھی ہے، ہم اپنے لیڈرزکے لیے چور کا لفظ کیوں استعمال کرسکتے ہیں، ہم تو قانونی سوالات پوچھ رہے تھے لیکن کسی وضاحت کی ضرورت نہیں اور وضاحت دینے کا پابند نہیں ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان سوالات پر جو ردعمل آیا وہ قابل قبول نہیں۔

پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار عدالت کوعوام نے دیا، نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ عدالت کا نہیں بلکہ عوام کا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت بنانے کا مقصد حکومت بنانا ہوتا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لاہور میں جلسہ کریں گے تو کتنے لوگ آئیں گے اور آپ کی سیاسی جماعت کا لیڈر جلسہ کرے تو لوگ زیادہ آئیں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ون مین شو ہوتا جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ عام لیڈر اور پارٹی سربراہ کے جلسے میں فرق ہوتا ہے، جس کے بعد بنچ نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

کب، کیا ہوا؟

گزشتہ برس اکتوبر میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی پارلیمنٹ سے منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں قانون دان ذوالفقار بھٹہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا منظور کردہ بل آئین کی روح سے متصادم ہے، کیونکہ اس کے تحت عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی صدارت کے لیے اہل قرار پائے گا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل ’63 اے‘ کے تحت پارٹی صدر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی اہم امور پر قانون سازی کو کنٹرول کرتا ہے اور اگر اہم امور پر کوئی رکن پارلیمنٹ پارٹی صدر کی مرضی کے خلاف ووٹ دے تو اس کا کیس الیکشن کمیشن کو نااہلی کے لیے بھجوایا جاتا ہے۔

6 نومبر 2017 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

22 نومبر کو چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کو چیلنج کرنے پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت 9 درخواست گزاروں نے ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف پاناما کیس میں نااہلی کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے اہل ہوگئے تھے۔

گزشتہ برس 22 دسمبر کو سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات بل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کو پارٹی کا نیا صدر منتخب کرکے کمیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کو نیا پارٹی صدر منتخب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت نااہل شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے بعد حکمراں جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر سردار یعقوب کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کیا گیا تھا۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرنے کے سلسلے میں ایک رکاوٹ کا سامنا تھا، جس کے لیے انتخابی اصلاحاتی بل 2017 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے تحت نااہل شخص بھی پارٹی کا صدر منتخب ہوسکتا ہے۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ترمیم پیش کی کہ جو شخص اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا جس کے بعد بل پر ووٹنگ ہوئی۔

حکومت نے محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق 203 میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کردی۔

مذکورہ بل کی منظوری کے بعد آرٹیکل 62 اور 63 کی وجہ سے نااہل ہونے والا شخص بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل ہوگا۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو باآسانی مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ صدر منتخب کرنے لیے پارٹی آئین میں بھی ترمیم کردی گئی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل نے پارٹی آئین میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے دفعہ 120 کو ختم کردیا، جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگئے۔