چترال میں 4 روزہ ققلاشت فیسٹیول کا اختتام ہوگیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی شہریوں اور سیاحوں نے شرکت کی۔

فیسٹیول کے لیے بالائی چترال میں ملخو، تورخو اور مستوج گاؤں کے سنگم میں 10 ہزار فٹ کی بلندی پر خیمہ بستہ قائم کی گئی تھی جو اسے ایک منفرد رنگ دے رہی تھی۔

مزید پڑھیں: شندور سے کالاش: کشور حسین شاد باد

ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا کے محکمہ سیاحت کے مشترکہ تعاون سے منعقد کیے گئے فیسٹیول میں مقامی کھیلوں کے علاوہ فٹبال، کرکٹ اور والی بال کے مقابلے منعقد کیے گئے جبکہ پتھروں پر چڑھنا، اسکیٹ شوٹنگ، پیرا گلائڈنگ اور جیپ ریلی کو اس فیسٹیول میں پہلی مرتبہ متعارف کرایا گیا تھا۔

فلڈ لائٹس میں کھیلا گیا پولو میچ بھی اس سال ایک نیا اضافہ تھا جس کے بعد موسیقی کے پروگرام کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چودہ اگست سے بروغل فیسٹیول کا آغاز

علاقے کی ثقافتی نمائش کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے جس میں مقامی کھانے، لباس، زیورات، کچن کا سامان، زرعی مصنوعات اور موسیقی کے آلے شامل تھے۔

انتظامیہ کی جانب سے فیسٹیول کے افتتاح کے لیے دو نامور فولک گلوگار، عبد الغنی عرف دول ماما اور میر ولی عرف کراغو میشتر کو چنا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: چترال: شندور میلے کیلئے گانا ریلیز

خوبصورت موسم اور عوامی چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے اس تقریب میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

کمشنر مالاکنڈ ڈویژن سید زہیر الاسلام اور چترال کے ڈپٹی کمشنر ارشاد سودھار نے مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں اور شراکت داروں میں انعامات تقسیم کیے۔

پولو کے مقابلے میں ریشم ٹیم نے اپنے حریف بونی کو 3 گولوں سے شکست دی جبکہ آیون، دروش اور چترال اسکاؤٹس فٹبال، کرکٹ اور والی بال کے مقابلے میں فاتح قرار پائے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 16 اپریل 2018 کو شائع ہوئی