خواجہ آصف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کو ان کے متبادل کی تلاش

اپ ڈیٹ 28 اپريل 2018

ای میل

سیالکوٹ: اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل کیے جانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) کو ان کے متبادل کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) خواجہ آصف کی جگہ ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو اس شہر میں موجود سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرسکے۔

اس حوالے سے مقامی سیاسی حلقوں کی جانب سے (ن) لیگ کے ہر عمل کا مشاہدہ کیا جارہا کیونکہ خواجہ آصف کا شمار ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پرویز مشرف حکومت کے مشکل دور میں اس وقت پارٹی کا ساتھ دیا تھا جب کئی پارٹی رہنما اور کاکنان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شامل ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کو نااہل قرار دے دیا

دوسری جانب کچھ مقامی آزاد سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اسمبلی رکنیت سے نااہلی سابق وزیر خارجہ کو سیالکوٹ کی سیاست سے دور نہیں کر سکتی اور اب وہ 2018 کے عام انتخابات میں ’کنگ میکر‘ کا کردار ادا کریں گے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت خواجہ آصف کے ممکنہ متبادل کی تلاش میں مصروف ہے تاہم پارٹی کی مقامی قیادت کا خیال ہے کہ اس وقت کوئی ایم این اے اور ایم پی اے سیالکوٹ کی سیاست میں ان کی جگہ نہیں لے سکتا اور ان کو ہٹائے جانے سے پیدا ہونے والا خلا پر نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ خواجہ آصف کی اہلیہ اور صاحبزادے سمیت خاندان کا کوئی بھی فرد سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

مقامی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی جانب سے خواجہ آصف کے متبادل کے طور پر تاجر ریاض الدین شیخ کا نام زیر غور ہے کیونکہ قیادت کا ماننا ہے کہ سیالکوٹ میں وہ کافی بااثر شخصیت ہیں اور سماجی اور تجارتی حلقوں میں بھی اپنا ایک نام رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کے خلاف کیس میں تاخیر، عمران خان کی عدلیہ پر تنقید

خیال رہے کہ ریاض الدین شیخ مشرف دور سے قبل مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں صوبائی وزیر برائے افرادی قوت رہنے والے مرحوم اعجاز احمد شیخ کے چھوٹے بھائی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے سیالکوٹ کے دورے کے دوران ریاض الدین شیخ بزنس اینڈ ٹریڈ سینٹر کا افتتاح بھی کیا تھا۔

تاہم سیالکوٹ کی سیاست میں ریاض احمد شیخ کو خواجہ آصف کے کافی قریب بھی سمجھا جاتا ہے اور پارٹی کی جانب سے سابق وزیر خارجہ کی تبدیلی ان سے مشاورت کے بعد کی جائے گی۔