نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ایون فیلڈ ریفنس میں بیانات جمعے کے روز احتساب عدالت میں ریکارڈ کیے جائیں گے۔

عدالت کی جانب سے تینوں ملزمان کو کیس سے متعلق سوالات کی فہرست فراہم کی جائے گی جبکہ مزید دو ملزمان نواز شریف کے بیٹے حسین اور حسن نواز کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

عدالت نے کارروائی کو کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 342 کے تحت آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ملزمان کو استغاثہ کے گواہان سے جرح کے بعد حتمی فیصلہ دیے جانے سے قبل آخری مرتبہ اپنے دفاع کا اختیار دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آخری مراحل میں داخل

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر، نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے لیے سوالنامہ تیار کریں گے۔

دریں اثناء العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کو پاناما پیپر کیس پر بنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد پیر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے جلد 9 میں پیش کیے گئے ٹیبل میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ممالک سے ملنے والی رقوم کو اثاثہ جات اور انکم ٹیکس میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: نیب کے گواہ واجد ضیاء پر سخت جرح کا سلسلہ جاری رہا

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو ملنے والے دستاویزات کے مطابق حسین نواز نے 2013 سے 2014 کے درمیان اپنے والد کو کوئی رقم نہیں بھیجی تاہم نواز شریف کو ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کچھ رقم ملی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے جلد 9 میں نواز شریف کے آمدنی کے حوالے سے ٹیبل کو بینک ریکارڈز اور دیگر دستاویزات سے تیار کیا گیا ہے۔

کن دستاویزات کو استعمال کیا گیا ہے کے حوالے سے سوال کے جواب میں واجد ضیا کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات کو رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ دوبارہ ریکارڈ دیکھ کر عدالت کو بتا سکتے ہیں کہ کن دستاویزات کا استعمال کیا گیا ہے۔

وقت آنے پر 2014 کے دھرنوں کے پیچھے کرداروں کو سامنے لاؤں گا

احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی تاکہ عوام اس تبدیلی کی اصل حقیقت دیکھ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے صوبے کے لیے کچھ نہیں کیا اور صرف احتجاج ہی کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: نوازشریف کی متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ

2014 کے دھرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وقت آنے پر وہ ان دھرنوں کے پیچھے اہم کرداروں کے نام عیاں کریں گے۔