اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیراعظم نوازشریف پر بھارت کو مبینہ طورپر 4 ارب 90 کروڑ ڈالر بھیجنے کا الزام منظر عام پر آنے کے بعد نیب کو حکومت کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

دوسری جانب نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی تمام انکوائریز، تحقیقات اور تصدیق تاحال حمتی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔

نیب کے چیئرمین (ر) جسٹس جاوید اقبال نے بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ شکایات، انکوائریز اور تحقیقات کو قانون کے مطابق حل کرنے کے لیے تمام ملزمان کا موقف لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کی نئی تحقیقات، وزیراعظم کی نیب پر تنقید

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘نیب قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے ملزمان کے خلاف درج شکایتوں، تحقیقات اور ریفرنس کی تصدیق کرتی ہے تاہم تحقیقات کا عمل مکمل نہیں ہوا اور شکایات، انکوائریز اور تحقیقات کو قانون کے مطابق حل کرنے کے لیے تمام ملزمان کا موقف لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور اںصاف نے نیب کے چیئرمین کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وضاحت دینے کی ہدایت کی تھی کہ انہوں نے کن بنیادیوں پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر 4 ارب 90 کروڑ ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھیجنے کی تحقیقات کا حکم دیا، تاہم وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل نیب نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف ورلڈ بینک کی ‘مفروضوں’ پر مشتمل ‘غیر اہم’ رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جبکہ ورلڈ بینک واضح کر چکا ہے رپورٹ میں منی لانڈرنگ سے متعلق کسی شخص کا کوئی نام شامل نہیں۔

مزید پڑھیں: تحقیقات کے دوران افسران کو ہراساں کرنے پر سپریم کورٹ کا نیب کو انتباہ

نیب کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے اجلاس کے شرکاء کو مطلع کیا کہ تمام شکایات، انکوائریز اور تحقیقات اگلے 10 ماہ میں ٹھوس شواہد کے ساتھ مکمل کرلی جائیں۔

انہوں نے نیب افسران پر زور دیا کہ وہ انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں اور ان کی وابستگی صرف پاکستان سے ہونی چاہیے۔

بعدازاں اجلاس میں 5 ریفرنس پیش کرنے، 3 تحقیقات کا آغاز اور 7 انکوائریز کا حکم بھی دیا گیا۔

اجلاس میں راولپنڈی میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعدد افسران کی ٹول پلازہ کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور سی این جی اسٹیشن کی لیزنگ کے خلاف شکایت کی تصدیق کردی۔

ایگزیکٹو بورڈ نے ہائیر پاکستان پرائیوٹ لیمٹڈ اور ہائیر ایجوکیشن آف پاکستان سمیت دیگر کے خلاف لپ ٹاپ کی خرید و فرخت میں بدعنوانی سامنے آنے پر انکوائری کا حکم دے دیا۔

یہ پڑھیں: نیب چیئرمین طے شدہ مصروفیات کے باعث 22 مئی کو قائمہ کمیٹی میں طلب

علاوہ ازیں بورڈ نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے فیاض چوہدری کو این ٹی ڈی اسی کا ایم ڈی مقرر کرنے پر بھی انکوائری کی اجازت دے دی۔

بورڈ نے پاکستان ریلوے کے سابق چیئرمین عارف عظیم اور دیگر کے خلاف 20 ارب روپے اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے سابق ایم ڈی اور ڈائریکٹرز کی کی کرپشن کی تحقیقات کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا۔


یہ خبر 17 مئی 2018 کو ڈان اخبارمیں شائع ہوئی