اسلام آباد: وزیرِ داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ’ستیاناس اور بیڑہ غرق اسٹوری‘ کا نام نہیں ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ 70 سال سے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا ہے، یہ دنیا کو اپنی صلا حیتیں دکھانے کے لیے تخلیق ہوا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، اور اس عزم کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پاکستان اس لیے نہیں بنایا تھا کہ صرف اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر ایک اور پرچم کا اضافہ ہوجائے، بلکہ اس کے وجود میں آنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم دنیا کو وہ ترقی کرکے دکھائیں جو متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے ممکن نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: میں کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتا، احسن اقبال

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس لیے وجود میں آیا تھا تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کے ہم جدید دور میں کامیابی کی داستان لکھنے کے اہل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقمستی سے ہم نے اپنے گزشتہ 70 سال ضائع کیے، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہم نے کچھ حاصل نہیں کیا، بلکہ اس دوران میں بہت سے کارنامے انجام بھی دیے۔

عالمی دہشت گردی کے حوالے بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا نشانہ بننے سے لے کر اسے ختم کرکے فاتح بننے تک کا سفر بھی طے کیا۔

ہمیں ایک نیا مائنڈ سیٹ اپنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس ملک کو گزشتہ 70 سالوں سے ’ستیا ناس اور بیٹرہ غرق تھیوری‘ ہی ملی ہے، لیکن اب یہ ملک ’ستیا ناس اور بیٹرہ غرق تھیوری‘ نہیں، جیسا کہ ہم سب سمجھتے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پانی کا گلاس آدھا بھرا ہوا ہوتا ہے تو وہ آدھا خالی بھی ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جسے مسائل کا سامنا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ احسن اقبال بھی ’پہلے اپنا گھر ٹھیک‘ کرنے کے حامی

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر آج آپ امریکا یا یورپی ممالک کا دورہ کریں تو وہاں کے لوگ آپ کو بتائیں گے کہ انہیں کتنے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، اور وہ اپنے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پریشان ہیں۔

وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ اگر ایک ملک اپنی ترقی کی سائیکل سے گزر رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی نوعیت کے کئی مسائل کا سامنا رہتا ہے، لیکن اسی دوران ہر ملک کے پاس اپنی کامیابیوں کا ایک سلسلہ بھی موجود ہوتا ہے، لہٰذا ان سب کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کس طرح اپنے ماضی اور مستقبل کو دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں آدھے خالی گلاس کی جانب دیکھیں گے تو صرف شکایات کریں گے اور مایوسی کے دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے لیکن اگر ہمارے پاس آدھے بھرے ہوئے گلاس کی جانب دیکھنے کی صلاحیت ہوگی تو ہم توانا رہیں گے، ہمارے پاس آگے بڑھنے کا جذبہ ہوگا اور ہم اس آدھے خالی گلاس کو بھرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں گے۔

وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں خود کو درپیش تمام مسائل کو حل کر لے گا، لہٰذا پاکستان میں بالخصوص نوجوان طبقے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو منفی بیانیے سے ہمیشہ خطرہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: احسن اقبال اقامہ رکھنے والے چوتھے وفاقی وزیر

انہوں نے بتایا کہ جس وقت پاکستان وجود میں آیا تھا اس وقت متحدہ ہندوستان کے سرکاری خزانے میں سے اسے شیئر نہیں دیا گیا، اور نو زائدہ مملکت کے سرکاری دفاتر میں لوگ کانٹوں سے دستاویزات کو باندھا کرتے تھے جبکہ کرسیاں اور میز بھی ان دفاتر میں موجود نہیں تھیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ابتدا میں اس ملک کے سرکاری دفاتر میں کرسیاں اور میز بھی موجود نہیں تھیں لیکن اب یہ ملک دنیا کا 7واں جوہری طاقت کا حامل ملک ہے، لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے ہم نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے پاس 1947 میں کوئی صنعت موجود نہیں تھی، جبکہ بھارت کے پاس اس وقت اپنی اسٹیل ملز موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس عرصے میں نہ صرف صنعتی میدان میں ترقی کی بلکہ وہ آج آٹو موبائل مصنوعات بنا رہا ہے، چینی کی پیداوار کے لیے پلانٹ بنا رہا ہے، سیمنٹ بنانے کے پلانٹ بنا رہا ہے، اور سب سے بڑھ کر پاکستان جے ایف 17 تھنڈر جیسے جنگی طیارے بنانے کے بھی قابل ہوگیا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان صنعتی ترقی میں کہاں تک جاسکتا ہے۔