پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت سے سزا پانے والے مجرم جنت کریم کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قلندر علی خان اور جسٹس ارشاد علی خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مجرم کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواست پر فوجی عدالت کے فیصلے کو معطل کیا۔

واضح رہے کہ مجرم کے اہل خانہ کی جانب سے سزا کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مزید پڑھیں: فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ’لاپتہ شخص‘ کی سزا معطل

فوجی عدالت کی جانب سے مجرم جنت کریم کو پارا چنار میں امام بارگاہ پر حملہ کرنے کے کیس میں سزا سنائی تھی جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اس کی توثیق کی گئی تھی۔

تاہم آج عدالت عالیہ میں سماعت کے دوران مجرم کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل شبیر حسین گیگیانی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ مجرم 2011 سے قبل لاپتہ ہوگیا تھا جبکہ 2011 میں مجرم کے اہل خانہ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2011 میں خفیہ اداروں کی جانب سے لاپتہ افراد سے متعلق فہرست جمع کرائی گئی تھی جس میں جنت کریم کا نام تھا اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اسے ایک سینٹر میں رکھا گیا۔

دوران سماعت وکیل شبیر حسین نے موقف اپنایا کہ 2011 میں حراست میں ہونے کے باعث ایک شخص کیسے جرم کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجرم جنت حیات کی سزا کے بارے میں اخبارات سے معلوم ہوا جبکہ ان پر جو الزام لگایا گیا اس کی تاریخ کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فوجی عدالت 2015 میں قائم ہوئی اور فوجی ایکٹ کے تحت وہ پرانی تاریخوں کے مقدمات نہیں سن سکتی۔

بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت اور محکمہ داخلہ کو نوٹسز جاری کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: فوجی عدالت سے مجرم قرار پانے والے کی سزا معطل

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پشاور ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ملزم شاکر اللہ، جو ان کے اہل خانہ کے مطابق 2010 سے دیر کے علاقے سے لاپتہ تھے، کی سزا پر عمل در آمد سے روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں سے اب تک دہشت گردی میں ملوث کئی مجرموں کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جن میں سے کئی افراد کو آرمی چیف کی جانب سے دی گئی توثیق کے بعد تختہ دار پر لٹکایا بھی جاچکا ہے۔

جنوری 2015 میں پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں توسیع کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی منظوری دی تھی، جب کہ پہلے فوجی عدالتوں کو صرف فوجی اہلکاروں کے جرائم کی پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) 1952 کے تحت سماعت کا اختیار تھا۔