معرکہ این اے 247: وہ حلقہ جو کسی کا نہیں

18 جولائ 2018

ای میل

ایک طویل عرصے سے کراچی کا حلقہ این اے 250 سب سے زیادہ ناقابلِ پیشگوئی حلقوں میں سے رہا ہے۔ اب بھی ایسا ہی ہے بلکہ اب یہ غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ گزشتہ سال کی نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے اسے این اے 249 کے ساتھ ملا کر این اے 247 بنا دیا گیا ہے۔ کراچی کے سب سے بڑے حلقوں میں سے ایک حلقہ اب اور بھی زیادہ بڑا ہوچکا ہے۔

این اے 250 کے طور پر یہ کراچی کے مرکزی 'پوش' علاقوں اور کچھ انتہائی گنجان آباد مڈل اور ورکنگ کلاس علاقوں پر مشتمل تھا۔ یہ تمام علاقے بڑی بڑی مہاجر، پختون، بلوچ، پنجابی اور سندھی آبادیوں پر مشتمل ہیں۔ چنانچہ این اے 249 کے ساتھ ملنے کے بعد اس علاقے کی لسانی اور طبقاتی کثیر النوعی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

1998ء اور 2008ء کے درمیان کراچی مجموعی طور پر بڑی حد تک متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا گڑھ تھا مگر لیاری اور ملیر جیسے کچھ علاقے اکثر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو جتواتے تھے۔ کراچی کی مہاجر اکثریت (جو کہ اب کراچی کی آبادی کا تقریباً 41 فیصد ہے) اکثریتی طور پر ایم کیو ایم کو ووٹ دیتی تھی جبکہ سندھی، بلوچ اور کچھ پختون حصے اپنا ووٹ پی پی پی کے حق میں کاسٹ کرتے تھے۔

تاہم 2013ء کے انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی آمد کے بعد شہر میں پی پی پی کا ووٹ بینک خاصی حد تک کم ہوگیا۔ ہیرالڈ میگزین کے جون 2013ء کے شمارے کے مطابق یہ خصوصی طور پر اس وجہ سے تھا کہ شہر کی پختون آبادی اور سندھی مڈل کلاس نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینا پسند کیا جسے 2013ء میں کراچی میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ ملے۔

پڑھیے: کراچی کو کس نے کب کب نقصان پہنچایا؟

اس کے علاوہ یہ کہ بھلے ہی پی ٹی آئی شہر میں ایم کیو ایم کے زیادہ تر مضبوط علاقوں سے اسے ہرانے میں ناکام رہی، مگر پھر بھی اس نے ایم کیو ایم کی جیت کے مارجن کو کافی دھچکا پہنچایا، جسے کبھی ناقابلِ تقسیم ووٹ بینک تصور کیا جاتا تھا۔

لیکن پھر 2016ء اور 2017ء کے کچھ ضمنی انتخابات اور خصوصاً 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں پی پی پی اور ایم کیو ایم اپنا کھویا ہوا حصہ واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہیں، اور دونوں پارٹیوں نے 2013ء میں پی ٹی آئی کے حاصل کردہ اثر و رسوخ کو مٹا کر رکھ دیا۔

اس دورانیے میں کراچی کی پی ٹی آئی قیادت کو دبے دبے لفظوں میں کہتے ہوئے سنا جاتا تھا کہ پی ٹی آئی سربراہ نے اپنا پورا زور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خلاف میدان حاصل کرنے میں لگا دیا ہے جس کی وجہ سے 2013ء میں پارٹی کی جانب سے کراچی میں حاصل کیے گئے فوائد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

پارٹی کی کراچی قیادت کے لیے صورتحال اس وقت اور بھی زیادہ پریشان کن ہوگئی جب ایم کیو ایم 3 حصوں میں بٹ گئی۔ 2017ء میں شہر میں ہونے والے 2 ضمنی انتخابات میں زیادہ تر مہاجر ووٹرز ووٹ دینے نہیں گئے۔ جنہوں نے ووٹ دیا، پی پی پی کو ووٹ دیا۔ پی پی پی ان ضمنی انتخابات میں کئی پختون اور پنجابی ووٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا صفایا ہوگیا۔

مگر جب ایم کیو ایم کے بکھرنے کے بعد کراچی کی انتخابی سیاست میں دوسروں کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے تو دیر سے ہی سہی، مگر پی ٹی آئی نے 25 جولائی کے آنے والے عام انتخابات کے لیے اپنے کچھ مضبوط ترین امیدواروں کو یہاں سے مقابلے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پڑھیے: وہ 46ء اور 70ء والے انتخابی منشور کہاں گئے؟

اس میں عمران خان خود بھی شامل ہیں جو کہ کراچی کی این اے 243 کی نشست سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ حقیقت میں جب سے ایم کیو ایم کا سب سے بڑا دھڑا یعنی ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم کے کئی مضبوط علاقوں میں اپنے سب سے بڑے حریف یعنی پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کو ہرانے کی کوشش میں ہے، تو تقریباً ہر بڑی پارٹی کراچی میں انتخابی بنیاد بنانے کی کوشش میں نظر آتی ہے۔

مگر این اے 250 ہمیشہ سے ایک 'اوپن' حلقہ تھا جو کسی بھی پارٹی کا مضبوط گڑھ نہیں تھا، اور اس کے این اے 249 کے ساتھ مل جانے کے بعد بھی صورتحال وہی ہے۔

این اے 250 کی طرح ہی نئی قائم شدہ این اے 247 بڑی حد تک کراچی شہر کے زیادہ آمدنی والے علاقوں کلفٹن، ڈیفینس، باتھ آئی لینڈ اور ساتھ ساتھ برنس روڈ کے مہاجر اکثریتی اور زیریں متوسط طبقے کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس میں اب کھارادر کا زیریں سے متوسط طبقے پر مشتمل علاقہ بھی شامل ہوگیا ہے جو کبھی این اے 249 کا حصہ تھا۔

ڈان اخبار میں 17 مئی 2013ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کلفٹن، ڈیفینس اور باتھ آئی لینڈ کے بالائی اور متوسط آمدنی والے علاقے یہاں کے ایک تہائی ووٹ ہیں، جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔

یہ ووٹر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں مہاجر، پختون، پنجابی اور سندھی شامل ہیں، جبکہ پوش علاقوں کے اندر کم آمدنی والے پاکٹ اکثریتی طور پر پختون اور پنجابی ہیں۔ دوسری جانب برنس روڈ اکثریتی طور پر مہاجر آبادی کا علاقہ ہے۔

کھارادر میں تھوڑے سے مارجن سے مہاجر اکثریت ہے، جس کے بعد بلوچ اور سندھی گروہ ہیں۔ مگر یہاں موجود مہاجر گجراتی بولنے والے میمن ہیں۔ 1988ء سے کھارادر کے میمن اکثریتی طور پر ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے آئے ہیں جبکہ پی پی پی دوسرے نمبر پر آتی رہی ہے۔

مگر کھارادر شاید کراچی شہر کا واحد علاقہ ہے جہاں سنی بریلوی جماعت سنی تحریک (ایس ٹی) کچھ اثر و رسوخ جمانے میں کامیاب رہی ہے، بھلے ہی یہ یہاں سے کبھی بھی انتخابات جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

پڑھیے: کراچی میں ایم کیو ایم کی دھڑے بندی سے کس کو فائدہ ہے؟

مگر کھارادر میں سنی تحریک کی جانب سے سالہا سال سے جاری سرگرمیوں کی نقل کرتے ہوئے حال ہی میں لانچ ہونے والی بریلوی بنیاد پرست متنازع جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) جارحانہ انداز میں یہاں داخل ہوئی ہے تاکہ جس قدر ہوسکے بریلوی میمن ووٹ حاصل کرلے۔

چنانچہ پرانے این اے 250 کی طرح این اے 247 میں بھی مقابلے کی پیشگوئی کرنا مشکل ترین ہوگا۔ یہاں کے مرکزی امیدواروں میں پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی (2013ء میں این اے 250 کے فاتح)، پی پی پی کے تجربہ کار عبدالعزیز (کھارادر کی مشہور میمن شخصیت)، ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار (ایک اور میمن جو 2008ء اور 2013ء میں این اے 249 جیت چکے ہیں)، پی ایس پی کی فوزیہ قصوری (پی ٹی آئی کی سابقہ مرکزی رہنما)، مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر افنان اللہ خان، متحدہ مجلسِ عمل کے محمد حسین محنتی، ٹی ایل پی کے سید زمان شاہ اور سوشل میڈیا شخصیت اور انسانی حقوق کے کارکن محمد جبران ناصر یہاں سے آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہیں۔

این اے 247 میں شامل علاقوں کی ایک مختصر انتخابی تاریخ سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ حلقہ کس قدر ناقابلِ پیشگوئی ہے۔ یہاں سے کب کب کون جیتا آئیے نظر ڈالتے ہیں:

  • 1970ء کے انتخابات میں کئی علاقے جو اب این اے 247 میں ہیں، اس وقت این اے 134 (کراچی 7) میں تھے۔ اعتدال پسند بریلوی جماعت جمعیت علمائے پاکستان کے شاہ احمد نورانی یہاں سے 28,304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی پی پی کے نور العارفین 22,609 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔
  • 1977ء میں یہ حلقہ وسیع ہوکر این اے 191 بن گیا۔ جماعتِ اسلامی کے منور حسن یہاں سے 73,997 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی پی پی کے ٹکٹ سے مشہور اردو شاعر جمیل الدین عالی نے 33,086 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
  • 1988ء میں یہ حلقہ ایم کیو ایم کے طارق محمود نے جیتا جنہوں نے 36,746 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پنجابی پختون اتحاد (پی پی آئی) کے سرور ملک 28,145 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔
  • 1993ء کے انتخابات کا ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کر رکھا تھا، چنانچہ مسلم لیگ (ن) کے کیپٹن حلیم این اے 191 کو 31,414 ووٹ لے کر جیتنے میں کامیاب رہے۔ جماعتِ اسلامی کے منور حسن 8550 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔
  • 1997ء میں مسلم لیگ نے ایم کیو ایم کے امیدوار کو باریک مارجن سے شکست دے کر ایک بار پھر یہ حلقہ جیت لیا۔
  • 2002ء کے انتخابات میں این اے 191 کو وسعت دے کر این اے 250 بنا دیا گیا۔ 2002ء کے انتخابات میں جماعتِ اسلامی کے عبدالستار افغانی نے 21,462 ووٹ لے کر یہ نشست حاصل کی۔ ایم کیو ایم کی نسرین جلیل 19,414 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔
  • 2008ء میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت نے یہاں سے 52,045 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ پی پی کے ڈاکٹر اختیار بیگ 44,412 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔
  • 2013ء میں یہ حقلہ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی نے 76,305 ووٹ لے کر جیتا جبکہ ایم کیو ایم 28,374 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہی۔

یہ مضمون ڈان اخبار کے سنڈے میگزین میں 15 جولائی 2018ء کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔