کسی کو بھی ہراساں کرنا اور اسے دھمکانا ہمیشہ ہی سنگین مسئلہ رہا ہے، تاہم کچھ لوگوں کے ایسے حساس معاملات پر متنازع بیانات سے معاملات مزید الجھ جاتے ہیں۔

فیشن مصنوعات کے آن لائن اسٹور ’کیساری’ کے کریئیٹو ڈائریکٹر ولید زمان کی جانب سے بھی خواتین کو ہراساں کرنے کی حمایت سے متعلق بیان دینے پر ہنگامہ ہوگیا اور کئی لوگوں نے ان کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔

ہوا یوں کہ پاکستانی اداکار علی ظفر کی فلم ‘طیفا ان ٹربل’ کی ریلیز کے موقع پر ملک بھر میں خواتین اور سوشل میڈیا پر متحرک پیجز اور تنظیموں کی جانب سے مظاہروں کا اہتمام کیا گیا اور کئی افراد نے جہاں ان کی فلم خود نہیں دیکھی، وہیں انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی یہ فلم دیکھنے سے روکنے کی کوشش کی۔

مظاہروں کا اہتمام کرنے والے افراد کے مطابق علی ظفر نے ساتھی گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کو ہراساں کیا، اس لیے بائیکاٹ کے طور پر ان کی فلم نہ دیکھی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’طیفا ان ٹربل‘ کی ریلیز، علی ظفر کے خلاف احتجاج

تاہم علی ظفر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ صحیح ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر تمام لوگوں کو سچائی کا پتہ لگ جائے گا۔

تاہم 20 جولائی کو جب طیفا ان ٹربل کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا تو کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں سینما گھروں کے باہر متعدد افراد نے علی ظفر کے خلاف احتجاج کیا۔

لاہور کے سائن اسٹار سینما کے باہر بھی متعدد خواتین نے علی ظفر کے خلاف احتجاج کیا۔

سوشل میڈیا پر مقبول پیج ’گرلز ایٹ دھابا‘ کی جانب سے سائن اسٹار کے باہر بھی ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد خواتین نے شرکت کی۔

گرلز ایٹ دھابا کی جانب سے سائن اسٹار کے باہر احتجاج کی آن لائن اسٹریمنگ بھی کی گئی۔

آن لائن اسٹریمنگ کی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرے کے دوران ہی فلم دیکھنے کے لیے آن لائن اسٹور کے کریئیٹو ڈائریکٹر ولید زمان بھی اپنی اہلیہ سمیت پہنچتے ہیں، جن سے مظاہرہ کرنے والی خواتین یہ سوال کرتی ہیں کہ وہ علی ظفر کی فلم کیوں دیکھ رہے ہیں؟َ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ولید زمان مظاہرہ کرنے والی خواتین کو مختصر جواب دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں ‘کیوں کہ وہ خواتین کو ہراساں کرنے کی حمایت کرتے ہیں‘۔

ان کے اسی جواب پر مظاہرہ کرنے والی خواتین مزید غصے میں آگئیں اور انہوں نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی، ساتھ ہی انہوں نے ولید زمان کو گالیاں بھی دینی شروع کردیں۔

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی افراد نے ولید زمان کے خلاف مذمتی بیان جاری کیے، ساتھ ہی کچھ افراد نے ان کے خاندان کے تمام برانڈز کی فہرست شیئر کرکے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان کا بائیکاٹ کریں۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

علاوہ ازیں کئی افراد نے کیساری اور ان کے دیگر برانڈز کے آفیشل اکاؤنٹس کو سوشل میڈیا پوسٹس میں مینشن کرکے انہیں ولید زمان کی تربیت کرنے کی بھی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے شوبز انڈسٹری تقسیم

تنقید ہونے کے بعد ولید زمان نے اپنے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ پر ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا، جسے بعد ازاں ہٹا دیا گیا۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

ولید زمان نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ مظاہرہ کرنے والے افراد کی جانب سے ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ اسے دھمکیاں بھی دی گئیں، جس وجہ سے انہوں نے پریشانی میں متنازع بیان دیا۔

ولید زمان کے مطابق انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کی وجہ سے پریشانی میں خواتین کو ہراساں کرنے کی حمایت کا بیان دیا۔

تاہم ولید زمان کے اس دلیل کو کسی نے بھی تسلیم نہیں کیا اور ان کے خلاف مذمتی بیانات اور ان کے خاندان کے تمام برانڈز کے بائیکاٹ کرنے کے بیانات دیے جاتے رہے۔

—فائل فوٹو: فیس بک
—فائل فوٹو: فیس بک

خیال رہے کہ علی ظفر اور میشا شفیع کے معاملے پر پہلے ہی شوبز انڈسٹری سمیت ملک کے تمام حلقوں کے افراد 2 حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔

بعض افراد کا ماننا ہے کہ میشا شفیع سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے علی ظفر پر الزامات لگا رہی ہیں، جب کہ بعض کا ماننا ہے کہ علی ظفر نے ساتھی گلوکارہ کو ہراساں کیا اور میڈیا انڈسٹری میں یہ معمول کی بات ہے۔

علی ظفر اور میشا شفیع کا معاملہ اب عدالت میں پہنچ چکا ہے۔

علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف جھوٹا الزام لگانے پر ایک ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا ہے، جس پر لاہور کی مقامی عدالت نے گلوکارہ سے جواب طلب کر رکھا ہے۔

—فائل فوٹو: فیس بک
—فائل فوٹو: فیس بک

رواں برس 19 اپریل کو میشا شفیع نے اپنی ٹوئیٹ کے ذریعے الزام عائد کیا کہ انہیں ساتھی گلوکار علی ظفر نے متعدد بار ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا، جب وہ خود کفیل اور معروف گلوکارہ و اداکارہ بن چکی تھیں۔

میشا شفیع کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد علی ظفر نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا تھا۔

اب علی ظفر نے لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے، جس پر عدالت نے میشا شفیع سے 13 اگست تک جواب طلب کر رکھا ہے۔