برطانیہ میں نامعلوم خاتون کی ریحام خان سے بدتمیزی

اپ ڈیٹ 07 اگست 2018

ای میل

ریحام خان گزشتہ چند ماہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں—فائل فوٹو: فیس بک
ریحام خان گزشتہ چند ماہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں—فائل فوٹو: فیس بک

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ صحافی و سابق اینکر ریحام خان کے ساتھ برطانیہ کے ایک پارک میں نامعلوم خاتون نے اس وقت بدتمیزی کی جب وہ پارک میں میڈیا کو انٹرویو دینے کے لیے پہنچیں۔

ٹوئٹر پر صحافیوں، سماجی کارکنان اور سیاستدان خواتین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نامعلوم خاتون کس طرح ریحام خان سے پے درپے سوالات کرکے انہیں نہ تو بولنے کا موقع دے رہی ہیں اور نہ ہی ان سے تحمل سے کوئی سوال کر رہی ہیں۔

ویڈیوز کو شیئر کرنے والے افراد کے مطابق یہ ویڈیوز اس وقت ریکارڈ کی گئیں جب ریحام خان برطانوی ریاست انگلینڈ کے ایک پارک میں بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کے لیے اپنے بیٹے کے ہمراہ پہنچیں۔

اس سے قبل کہ ریحام خان بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتیں، وہاں موجود ایک خاتون نے انہیں دیکھ کر ان کی ویڈیو بنانا شروع کردی، ساتھ ہی ان پر سوالات کی بوچھاڑ بھی کردی۔

سامنے آنے والی 2 مختصر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نامعلوم خاتون پہلے تو ریحام خان سے مسلسل سوالات کرتی ہیں بعد میں جب سابق اینکر ان کے جوابات دینا شروع کرتی ہیں تو وہ مزید سوالات کی بوچھاڑ کرکے انہیں بات تک نہیں کرنے دیتیں۔

ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ نامعلوم خاتون ریحام خان سے سوالات کر رہی ہیں کہ کیا وہ عائشہ گلالئی کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے جا رہی ہیں؟

اس سے قبل کہ ریحام خان سوال کا تسلی سے جواب دیتیں، خاتون مزید سوال کرتی ہیں کہ کیا وہ بشریٰ بی بی کی خاتون اول بننے پر جلن محسوس کر رہی ہیں؟

اگرچہ خاتون نے سوالات کی بھرمار کردی تاہم ریحام خان نے انہیں جواب دیا کہ وہ عائشہ گلالئی کی پارٹی میں نہیں جا رہیں، کیوں کہ وہ انہیں زیادہ نہیں جانتیں اور یہ کہ وہ بشریٰ بی بی سے حسد نہیں کر رہیں، وہ عمران خان کی اہلیہ ہیں، ان کے خاتون اول بننے پر وہ خوش ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ریحام خان سوالات کرنے والی خاتون سے پوچھتی ہیں کہ کیا وہ پختون ہیں؟

ساتھ ہی ریحام خان خاتون کو کہتی ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ ان سے سوالات کرنے والی خاتون شادی شدہ ہوں گی اور ان کے بچے بھی ہوں گے۔

اس دوران ریحام خان کا بیٹا بھی ویڈیو ریکارڈ کرنے والی خاتون کو جوابات دیتا ہے، تاہم ویڈیو ریکارڈ کرنے والی خاتون کسی کو بولنے نہیں دیتیں۔

ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ویڈیو ریکارڈ کرنے والی خاتون اردو میں بھی بات کرتی ہیں اور وہ ریحام خان کو کہتی ہیں کہ وہ ویسے دوپٹہ نہیں پہنتیں لیکن کیمرے کے سامنے پہنتی ہیں۔

ساتھ ہی خاتون ریحام خان کو بھارتی میڈیا کو انٹرویوز دینے کا طعنہ بھی دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ پڑوسی ملک پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث ہے۔

اگرچہ ویڈیوز میں ریحام خان، ان کے بیٹے اور بھارتی صحافی سمیت پارک کو دیکھا جاسکتا ہے، تاہم ویڈیوز میں ریحام خان سے سوالات کرنے والی خاتون کو ویڈیوز میں نہیں دیکھا جاسکتا۔

ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد شیری رحمٰن، بختاور بھٹو زرداری سمیت متعدد خواتین، صحافیوں اور سماجی کارکنان نے ریحام خان کی حمایت میں ٹوئیٹس کیں اور ویڈیو ریکارڈ کرنے والی خاتون کے عمل کو بدسلوکی قرار دیا۔

کچھ صارفین نے اشارہ کیا کہ ریحام خان کے ساتھ بدسلوکی کرنے اور انہیں ہراساں کرنے والی خاتون تحریک انصاف کی حمایتی ہوسکتی ہے۔