دبئی: سعودی عرب کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ خواتین سماجی کارکنان کی گرفتاری کے معاملے پر کینیڈا کے ساتھ سفارتی تنازع کا اثر سلطنت کی کینیڈین صارفین کو تیل کی فروخت پر نہیں پڑے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'سعودی پریس ایجنسی' کی رپورٹ میں وزیر توانائی خالد الفلیح کے حوالے سے کہا گیا کہ 'تیل کی فروخت سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اثر انداز نہیں ہوتی، کیونکہ اس حوالے سے مضبوط اور طویل عرصے سے چلی آنے والی پالیسی موجود ہے۔'

بیان میں کہا گیا کہ 'سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان موجودہ سفارتی تنازع کسی صورت سعودی آرامکو کے کینیڈا میں اس کے صارفین کے ساتھ تعلقات کو اثر انداز نہیں کرے گا۔'

کینیڈا، جو تیل پیدا کرنے والے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے، اپنی ضرورت کا 10 فیصد تیل سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے کینیڈا تنازع میں ثالثی کا امکان مسترد کردیا

دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا سالانہ حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈین سفیر کی جانب سے سعودی عرب میں قید سماجی کارکنان کی رہائی کے مطالبے پر سعودی عرب نے شدید رد عمل دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کر دیئے تھے اور کنیڈین سفیر کو ملک بدر کردیا تھا۔

سعودی عرب نےاس کے ساتھ کینیڈا میں اپنی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اور طبی پروگرامز بھی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ کینیڈا میں زیر تعلیم ہزاروں سعودی طلبہ اور زیر علاج مریضوں کو منتقل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔