وزیراعظم کی پہلی تقریر غیر روایتی ہی نہیں، غیر معمولی بھی!

ای میل

اتوار کی شب پاکستان کے نو منتخب وزیرِاعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ یہ خطاب اپنی طوالت، انداز اور مشمولات میں ماضی کی روایت سے بہت مختلف اور الگ نظر آتا ہے۔

بالعموم قوم کے نام پہلے خطاب میں قوم کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے، اک بہتر مستقبل کی نوید دی جاتی ہے اور پھر چند رسمی باتیں۔ خیال رکھا جاتا ہے کہ ممکنہ حد تک اختصار برتتے ہوئے چند باتیں کردی جائیں جن سے ایک مثبت تاثر قائم ہوجائے اور عوامی سطح پر وزیرِاعظم کی رونمائی بھی ہوجائے۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس پر قومی ذرائع ابلاغ میں فوراً ہی سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوجانے کا امکان ہو، مبادا حکومت کا ’ہنی مون پیریڈ‘ برباد ہوکر رہ جائے۔

اس تناظر میں پاکستان کے وزیرِاعظم کا ایک گھنٹہ 9 منٹ کا خطاب کسی طرح بھی اختصار کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ پھر اس خطاب میں انہوں نے تقریباً ہر اس مسئلے کا ذکر کیا جو ان کے خیال میں پاکستان کو درپیش ہے۔ یہی نہیں، انہوں نے مسائل کے ممکنہ حل کی جانب اشارہ بھی کیا اور یوں اپنے تئیں مستقبل کی ایک سمت معین کردی جس پر وہ ملک و قوم کو بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

بعض مبصرین کی رائے میں ان کے اس خطاب میں کچھ تضادات بھی تھے جیسا کہ دگرگوں اقتصادی صورتحال، قرضوں کے بڑھتے حجم اور محصولات کے سکڑتے دامن کے ذکر کے ساتھ ہی عوام کے لیے صحت و تعلیم کی سہولیات اور ڈیموں کی تعمیر جیسے بھاری مالیت کے منصوبوں کا عزم۔

جزئیات میں جائے بغیر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب مختصر وقت میں زیادہ معلومات فراہم کرنا مقصود ہو تو بظاہر ایسا لگ سکتا ہے کہ گفتگو میں تضادات در آئے ہیں لیکن جب عمل کے وقت ترجیحات کا تعین کیا جاتا ہے تو بالعموم یہ کیفیت باقی نہیں رہتی۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چیلنجز کے ساتھ امید کا پیغام دینا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ بسا اوقات مایوسی فکر و عمل کی صلاحیت سلب کردیتی ہے۔

وزیرِاعظم نے جہاں میکرو اکنامکس کی بات کی، دہشت گردی کے عفریت کا ذکر کیا، پولیس اور عدالتی نظام کے اصلاح کے پروگرام پر روشنی ڈالی وہاں انہوں نے ایک نیا نکتہ بھی قوم کے سامنے رکھا۔ نبی کریم ﷺ کی سربراہی میں قائم ہونے والی ’ریاستِ مدینہ‘ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے قرار دیا کہ قوموں کی سر بلندی کا راستہ ان کے عام آدمی کی حالت میں بہتری سے ہو کر گزرتا ہے۔

اگر عام آدمی خوش اور خوشحال ہے، اس کی عزتِ نفس برقرار ہے تو وہ قوم بھی توانا ہے اور اقوامِ عالم میں اسے وقعت اور بلند مرتبہ حاصل ہوگا۔ بصورتِ دیگر، اس ملک و قوم کو زوال کی کھائی میں گرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اس کے لیے انہوں نے باہمی ’رحم دلی‘ کی اصطلاح استعمال کی (اسے ہم Compassion اور Empathy پر محمول کرسکتے ہیں)۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو پہلے اس سطح پر ایک پالیسی کے طور کبھی بیان نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی تقریبِِ حلف برداری کا آنکھوں دیکھا حال

یہ بہت ہی عمدہ اور دور رس نتائج کا حامل خیال ہے۔ اگر اس پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد ہوسکے تو جہاں اس سے سماج میں پائے جانے والے معاشی تفاوت کو معاشرتی تقسیم کی بنیاد بننے سے روکنے میں مدد ملے گی وہیں اس سے دولت کو عزت کا معیار ہونے کے رجحان کا سدباب بھی ممکن ہوسکے گا۔ اس کا نتیجہ قوم میں زیادہ بھرپور ہم آہنگی کی صورت دیکھنے میں آئے گا۔

وزیر اعظم نے پولیس کلچر میں تبدیلی، عدلیہ اصلاحات اور بیورو کریسی کی کارکردگی میں بہتری سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ان کا محور بھی عام آدمی کے لیے ان سروسز کو دوستانہ ماحول میں مددگار بنانا قرار دیا۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے پاکستانیوں کی دادرسی کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور اس ضمن میں پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔

وزیرِاعظم عمران خان کی تقریر کے لیے لکھے گئے اہم پوائنٹس۔ فوٹو: عمران خان فیس بک پیج

مزید یہ کہ تمام پاکستانی سفارتخانوں کو احکامات جاری کیے جا رہے ہیں کہ ان ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے سفارتی سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور ان کی شکایات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جائے۔

صحت کے لیے ہیلتھ کارڈ کا اجراء اور اس کا دائرہ کار پورے ملک تک وسیع کرنا نیز تعلیمی سیکٹر میں سرکاری اسکولوں کو ایک مؤثر مرکز بنانا بھی عام آدمی کی مشکلات کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی سب کام اکیلے حکومت نہیں کرسکتی۔ کامیاب پالیسیاں وہی ہوتی ہیں جنہیں نہ صرف عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے بلکہ وہ خود عملی طور پر اس کا حصہ بھی بنتے ہیں۔

جمہوری ہونے کی طرح ’رحم دلی‘ بھی ایک رویہ کا نام ہے، ایک عمومی طرزِ عمل سے عبارت۔ پولیس، عدالت، افسر شاہی، ڈاکٹر، آجر، یہ سب درحقیقت پاکستانی سماج کا پرتو ہی تو ہیں۔ اگر بحیثیت ایک فرد ہمارے اندر رحم دلی یا صلہ رحمی کا یہ جذبہ موجود ہوگا تو اس کا اثر خود بخود ہماری سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی جھلکے گا۔ سماجی رجحانات سرکاری سطح پر ترتیب نہیں پاتے بلکہ یہ رضاکارانہ فعل ہے اور اس کی بنیادی اکائی فرد ہے۔

مزید پڑھیے: ماضی کی یادوں سے خان صاحب کے حلف لینے تک کی داستان

وزیراعظم عمران خان کی تقریر ابھی کئی روز تجزیات و بحث کا موضوع رہے گی۔ سیاسی و معاشی حوالوں سے اس پر بہت سی نکتہ چینیاں بھی سامنے آئیں گی، البتہ میرے لیے اس میں سماجی تحرک کا وہ پیغام سب سے اہم ہے جسے انہوں نے ایک دوسرے کی جانب رحم دلانہ برتاؤ سے تعبیر کیا۔

دیگر عوامل کے علاوہ سماجی ہم آہنگی کا فقدان اور باہمی تشکیک ہماری معاشی اور معاشرتی پسماندگی کا بہت بڑا سبب ہے۔ کاش وزیرِاعظم اور ہم سب تسلسل کے ساتھ باہمی تواضع کے اس اہم ترین نکتے کی اپنی جانب توجہ مبذول رکھ سکیں۔