ماضی کی یادوں سے خان صاحب کے حلف لینے تک کی داستان

اپ ڈیٹ 18 اگست 2018

ای میل

آخر کار ہمارے عمران خان صاحب نے وزارتِ عظمیٰ کا ’عہدہ‘ جلیلہ سنبھال لیا۔ خان صاحب کے وزیرِاعظم بننے پر ذاتی حوالے سے دل کی کئی کہانیاں یاد آگئیں۔

1992ء میں کرکٹ کا عالمی میلہ جیت کر خان صاحب پہلے ہی عموماً پوری دنیا اور خصوصاً پاکستان میں دھوم مچا ہی چکے تھے مگر شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قیام سے پاکستانی عوام کے دلوں میں اُن کی عزت اور عظمت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ لیکن جب انہوں نے ’سیاست‘ میں قدم رکھنے کا اعلان کیا تو دوستوں اور دشمنوں دونوں کا ایک ہی ردِعمل تھا کہ، ’سیاست خان صاحب کے بس کی بات نہیں، اور وہ اس میں ساری زندگی 12ویں کھلاڑی ہی رہیں گے‘۔ خان صاحب کی زبان زدِعام یہی شہرت تھی کہ ’صاحب اکھڑ مزاج اور متکبر ہیں‘۔

یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جوانی سے اُدھیڑ عمری کی جانب مائل ہونے کے باوجود پلے بوائے کی زندگی ہی گزاری ہے، مگر سیاست تو ایک الگ دنیا کا نام ہے جہاں سڑکوں اور چوراہوں پر وقت گزارنا ہوتا ہے۔ الزامات، لعن طعن اور تھانہ کچہری کے بغیر تو وطن عزیز میں سیاستداں کا تصوّر ہی نہیں، اور پھر خان صاحب نے تو شادی بھی ایک ارسٹوکریٹ فیملی میں کی، جس کے سبب ایک عام پاکستانی اور ہاں ہم میڈیا والوں کے لیے بھی وہ اجنبی سے تھے۔

2002ء میں جب پاکستان میں نجی چینل آئے تو ہماری بھی انڈس ٹی وی میں دہاڑی لگ گئی۔ ہم بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک سے متاثر ہوکر ایک پروگرام ’دو ٹوک‘ کیا کرتے تھے۔ جس میں مین اسٹریم جماعتوں کے جغادری سیاستداں ہی مہمان ہوتے تھے، یوں عمران خان کا انٹرویو ’دو ٹوک‘ میں بنتا نہ تھا، مگر اُس زمانے میں ہمارے فیملی فرینڈ نعیم الحق کا جو ان دنوں خان صاحب کے قریب ترین مشیر تھے فون آیا کہ خان صاحب شہر میں ہیں ’آپ اُن کا انٹرویو کرلیں۔‘

پڑھیے: کیا عمران خان بھٹو بن سکتے ہیں؟

ایک کامیاب کرکٹر اور شوکت خانم ہسپتال کے سبب اُن سے ملنے کا اشتیاق تو ایک عرصے سے تھا مگر سیاستدان کی حیثیت سے ان کے انٹرویو سے متعلق پہلے سوچا کہ ٹال دیا جائے مگر چینل کے مالک کو علم ہوا تو انہوں نے زور دے کر کہا، ’بہت ہوگئے سیاستداں، اب عمران خان ہی نہیں، عاصمہ جہانگیر اور احمد فراز جیسے سیلیبریٹی کو بھی اپنے پروگرام میں مدعو کریں‘۔

سو ایک خوشگوار شام بغیر کسی ’ہٹو بچو‘ کے خان صاحب ہمارے اسٹوڈیو میں تھے۔ سادہ شلوار قمیض ہاتھ میں موبائل فون سے کھیلتے، شرماتے آکر بیٹھ گئے۔ کرکٹ کی زبان میں ہم نے سوالات کی بڑی باؤنسریں پھینکی، خان صاحب بھی ٹھیک ٹھاک ہی کھیلے، ’ٹھیک ٹھاک‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ خان صاحب ابھی اُس سیاسی زبان سے آشنا نہ ہوئے تھے کہ جس میں ترکی بہ ترکی جواب دیا جاتا ہے۔

2002ء کے بعد سے جب بھی خان صاحب کا کراچی آنا ہوتا تو خان صاحب کا انٹرویو ضرور ہوتا اور پھر شوکت خانم ہسپتال کے حوالے سے کئی بار لاہور جانا ہوا۔ 2010ء میں نمل یونیورسٹی کی پہلی گریجویشن کی تقریب تھی۔ اسلام آباد سے میانوالی ایک پورا دن خان صاحب کے ساتھ رہا جس سے انہیں قریب سے دیکھنے اور روایتی انٹرویو سے ہٹ کر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔

گاڑی میں انٹرویو کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ انٹرویو دینے والا آپ کے پہلو میں بیٹھے اور کیمرہ مین فرنٹ سیٹ پر، مگر خان صاحب ہمیشہ بضد ہوتے کہ وہ فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھیں گے جس کے سبب ہمیں انٹرویو کے لیے مشکل پیش آرہی تھی۔ اب چونکہ نمل یونیورسٹی کا میانوالی سے کوئی 4 سے 5 گھنٹے کا راستہ ہے لہٰذا ہم نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہر گھنٹے بعد اُنہیں کسی بہانے نیچے اتار کر ایک 2 سوال کرتے، یوں نمل پہنچتے پہنچتے ہمارا انٹرویو ہوگیا۔

2002ء کی شکست خان صاحب کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھی کہ محض ایک نشست حاصل کرسکے اور پھر 2008ء جب قسمت آزمانے کا وقت آیا تو آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی کال پر انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ اگرچہ بائیکاٹ تو مسلم لیگ (ن) نے بھی کرنا تھا مگر عین وقت پر وہ پیچھے ہٹ گئی.

لیکن پھر بتدریج بڑی تیزی سے سیاسی صورتحال میں تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور پالیسیوں سے تنگ رہنماوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کرنا شروع کردی۔ پیپلز پارٹی سے شاہ محمود قریشی اور (ن) لیگ سے جاوید ہاشمی کی تحریک انصاف میں شمولیت ہوئی تو اسلام آباد کے سیاسی پنڈتوں نے پی ٹی آئی کو ملک کی تیسری جبکہ پنجاب میں تو دوسری بڑی قوّت کہنا شروع کردیا تھا۔

پڑھیے: اتاترک سے دشمنی، جناح سے دوستی بھی؟

میں مئی 2013ء کی انتخابی مہم کے اختتام سے ایک دن قبل کراچی میں خان صاحب ایک گاڑی میں تھا۔ خان صاحب انتخابی جیت کو لے کر بڑے پُرجوش اور پُرامید تھے اور اُسی شام اُن کی لاہور واپسی تھی۔ رات کے پہلے پہر خبر آئی کہ خان صاحب کرین سے گر کر شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

میں یہ بات تو نہیں جانتا کہ جس وقت انتخابی نتائج آنے شروع ہوئے تو خان صاحب مکمل ہوش میں تھے یا غنودگی میں، لیکن یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ یہ وہ نتائج نہیں تھے جن کی خاص صاحب امید، توقع اور دعوے کررہے تھے.

ہفتے بھر بعد جب شوکت خانم ہسپتال کے چوتھے فلور پر سخت حفاظتی انتظامات میں خان صاحب کو دیکھا تو دل دھک گیا، لگا خان صاحب کی یاداشت پوری طور پر واپس نہیں آئی ہے۔ سیاسی اسٹیج سنبھالنے میں سال نہیں تو مہینے تو لگ ہی جائیں گے۔

لیکن یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ اس قدر جلدی خان صاحب کیسے کھڑے ہوگئے؟ کھڑا کیا ہونا تھا، 2014ء کے آغاز سے ہی اسلام آباد میں دھرنا دینے کی دھمکیاں بھی دینی شروع کردی تھیں۔ شہر شہر جو ریلیاں ہو رہی تھیں اُس سے لگتا تھا کہ خان صاحب کا دھرنا ’شریف حکومت‘ کو گرا نہ بھی سکا تو دہلا ضرور دے گا۔

پھر ہم نے دیکھا کہ دھرنا ہوا اور بڑے زوروں میں ہوا مگر ’امپائر‘ کے نیوٹرل رہنے کے سبب اس کا انجام خان صاحب کے لیے کوئی خوشگوار تجربہ ثابت نہیں ہوسکا۔ مخالفین نے بددعاؤں کی حد تک پیش گوئی کی کہ 2018ء میں بھی خان صاحب ’جیتنے والی انتخابی ٹیم‘ نہیں بنائیں گے۔

2018ء کے الیکشن سے چند ماہ پہلے بنی گالہ میں جب ڈان نیوز کے لیے پہلا انٹرویو کرنے گیا تو وہاں نظر آنے والی گہما گہمی بتا رہی تھی کے جولائی 2018ء کی بھرپور تیاریاں ہو رہی ہیں۔

عمران خان کے انٹرویو کا لب لباب بھی یہی تھا ’اب یا کبھی نہیں‘۔

اسی طرح 21 جولائی کو الیکشن سے صرف 96 گھنٹے پہلے ایک بار پھر میں کراچی ایئر پورٹ سے روانہ ہونے والی گاڑی میں کیمرے کے ساتھ جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ خان صاحب نے دیکھتے ہی کہا اس بار بڑی زبردست تیاریاں ہیں۔ جس پر میں نے صحافیانہ سوال کیا کہ 'الیکٹیبل کے کندھوں پر؟'

جواب دیا، ’ہاں۔ یہ الیکشن میں جیتنے کے لیے لڑ رہا ہوں، جیتا نہیں تو تبدیلی کیسے آئے گی!‘

پڑھیے: عمران خان کے اقتدار کو خطرہ ’کب‘ اور ’کیوں‘ ہوسکتا ہے؟

یہ تحریر میں 18 اگست کو ایوان صدر واپسی پر لکھ رہا ہوں۔ 22 سال کی کٹھن جدوجہد کے بعد بالآخر عمران خان پاکستان کے 22ویں وزیرِ اعظم کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ مگر بقول شخصے ’اب پچ تیار ہوئی ہے‘ اب وہ بولنگ نہیں بیٹنگ کر رہے ہیں، کیا خان صاحب ایک کے بعد دوسری، تیسری اور پھر تواتر سے آنے والی باؤنسرز کے لیے تیار ہیں؟

پھر یہ کرکٹ نہیں کہ Out of focus ہونے پر پویلین یا تماشائیوں میں جا بیٹھیں۔ سیاست میں دھڑن تختہ ہو تو بات تختئہ دار تک بھی جاتی ہے۔

خان صاحب کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئی تھیں تو اُن سے بھی کم و بیش اتنی بلکہ اس سے بھی زیادہ توقعات تھیں جو اس وقت ساری قوم کو ان سے ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ اپنا کام بھرپور لگن سے کریں۔ خان صاحب کو ابتدا سے ہی کن کن محاذوں پر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، اس حوالے سے چند باتیں ان کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

- آپ کے ارد گرد جو سیاست کے نوآموز کھلاڑیوں کا ہجوم ہے کیا اُن کے مطالبوں اور خواہشوں کو لگام دینا بہت ضروری ہے۔

- معیشت خطرناک حد تک تباہی کے دہانے پر ہے، یہ صرف ایک اسد عمر کی بات نہیں کیونکہ منشور کتابچے میں ہوتا اور مسائل زمینی حقائق ہوتے ہیں۔

- اپوزیشن کا 'شیر' پنجاب میں ہارا ضرور ہے بھاگا نہیں، جبکہ پیپلز پارٹی اپنی حکمت عملی کے تحت ایک قدم پیچھے ہٹی ہے لیکن اپوزیشن کے ساتھ اسے 4 قدم چلنے میں دیر بھی نہیں ہوگی۔

- یہ ٹرمپ کا امریکا ہے۔ پھر ایران، سعودی عرب اور بھارت کے ساتھ Love/Hate تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، اُن سے نمٹنا آسان نہیں۔

- کرپشن، سویلین، ملٹری بیوروکریسی کی جڑیں 70 سالوں میں بڑی گہری ہوچکی ہیں۔

درج بالا باتیں ڈرانے کے لیے نہیں توجہ دلانے کے لیے ہیں، مگر کہا جاتا ہے کہ ’اقتدار‘ کی دیواریں بڑی بلند ہوتی ہیں یہاں تک سچ اور حق کی صدائیں مشکل سے پہنچتی ہیں۔