اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ میں زرداری گروپ کی 2 نئی کمپنیاں سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دوران تفتیش لینڈ مارک اور نیشنل گیسس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے 2 کمپنیوں کی شناخت ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں کی شناخت کھوسکی شوگر مل سے ملنے والی ایک ہارڈ ڈسک سے ہوئی جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں بینک اکاؤنٹس 2013 میں ڈی ایچ اے فیز ون میں نجی بینک بھی کھولے گئے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں 'جے آئی ٹی' بنانے کا حکم

عدالت میں جمع دستاویز کے مطابق لینڈ مارکس کمپنی کے 3 شیئر ہولڈرز تھے، جن میں آصف علی زرداری، فریال تالپور اور عذرا فضل پیچوہو شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بینک اکاؤنٹ میں رقم پے آرڈر کی صورت میں جمع کرائی گئی جبکہ بینک اکاؤنٹ میں آخری مرتبہ ٹرانزیکشن 2015 میں ہوئی۔

دستاویز کے مطابق آخری ٹرانزیکشن میں 47 لاکھ 36 ہزار 9 سو 24 روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ تیار کرکے زرداری گروپ آف کمپنیز کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا۔

عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دوسری کمپنی نیشنل گیسس پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او محمد عادل خان اور کئی شیئر ہولڈرز تھے۔

ایف آئی اے کی دستاویز کے مطابق 2015 سے کمپنی کے شیئر سارہ ترین مجید، علی کمال مجید اور محمد عادل خان کے نام منتقل ہوئے، جس کی وجہ اس کمپنی کی ٹرانزیکشن ریکارڈ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجید فیملی کے افراد کے نام 19 کمپنیاں ہیں، جن میں 7 شوگر ملز ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان شوگر ملز میں بوانی، چیمبر، کھوسکی، نوڈیرو، ٹنڈو اللہ یاراور نیو دادو شوگر مل شامل ہیں، جو انور مجید، ذوالقرنین مجید، غنی مجید اور خواجہ مصطفیٰ کمال مجید کے نام پر ہیں۔

عدالت میں پیش رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اومنی پرائیویٹ گروپ انور مجید کے نام ہے جبکہ 8 مزید ایسی کمپنیاں ہیں جو مجید فیملی کے رشتے داروں یا ملازمین کے نام ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ کہ 'ہم جعلی اکاؤنٹس کی پہلے کی گئی تحقیقات کے بجائے جے آئی ٹی بنا کر اس سے ازسر نو تحقیقات کرا لیتے ہیں، 35 ارب روپے کے فراڈ کا معاملہ ہے جس کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں اور سچ سامنے لانا چاہتے ہیں۔'

اس سے قبل ایف آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاونٹس کے خلاف تحقیقات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی گئی تھی، جس میں مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: ایف آئی اے نے آصف زرداری، فریال تالپور کو طلب کرلیا

ایف آئی اے کا عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عبد الغنی مجید نے جعلی بینک اکاونٹس سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں سے تعلقات کا اعتراف کر لیا، جبکہ صدر سمٹ بینک حسین لوائی اور کارپوریٹ ہیڈ طلحہ رضا زیر حراست ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اومنی گروپ کے مالکان انور مجید اور عبدالغنی مجید 28 اگست تک جوڈیشل کسٹڈی میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور 8 ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 29 مشکوک بینک اکاونٹس سے 35 ارب روپے منتقل کیے گئے، مذکورہ مقدمے میں 10 اشتہاری ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔