’ڈاکٹر عارف الرحمٰن علوی پاکستان کے نئے صدر منتخب‘ یہ محض یک سطری خبر نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے طویل سیاسی جدوجہد، قابلیت، اور اپنے قائد سے وفاداری کی بھی خوبصورت مثال ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے اس وقت عمران خان کا ہاتھ تھاما جب ان کی شہرت ایک کرکٹر یا رفاہی خدمات سرانجام دینے والے ہیرو سے زیادہ نہ تھی۔

پاکستان میں سماجی، مذہبی یا تعلیمی شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو سراہا تو خوب جاتا ہے لیکن مشکل سمجھے جانے والے سیاسی و انتخابی کھیل میں ایسے افراد کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ یہی معاملہ عمران خان کے ساتھ تھا اور ایسے میں عارف علوی کی جانب سے ان کی سیاسی جماعت میں شمولیت گھاٹے اور خسارے کا سودا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ مستقبل میں کچھ ایسی تبدیلی آنی تھی کہ جس کا خود عارف علوی کو بھی یقین نہ تھا۔

بطور بیٹ رپورٹر کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں عمران خان کی سرگرمیوں کی کوریج کا بھرپور موقع ملا اور اس دوران مختلف معاملات پر ڈاکٹر عارف علوی سے بھی رابطہ رہتا۔

پڑھیے: میں واللہ صدرِ پاکستان ہوتا!

2013ء کے عام انتخابات میں کراچی کے علاقے ڈیفنس سے عارف علوی کی کامیابی بھی الگ ہی قصہ ہے۔ جب ایم کیو ایم لندن کے سربراہ نے تین تلوار پر ان کے احتجاج کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی دھمکی دی، اس وقت اور اس سے قبل 12 مئی 2007ء کو شہر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے موقعے پر بھی عارف علوی نے ٹی وی چینلز پر غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلی بات کی، حالانکہ اس وقت تحریکِ انصاف کی قومی اسمبلی میں واحد نشست عمران خان کی تھی اور کراچی میں تحریکِ انصاف کی کوئی سیاسی حیثیت نہ تھی۔

ایسے میں کراچی کے خاص پس منظر کے ساتھ ان کی تنقید نے ایم کیو ایم کو خاصا پریشان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں انہیں کئی بار ایم کیو ایم میں شمولیت اور قومی اسمبلی کا رکن یا سینیٹر بنانے کی بھی متعدد بار پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے ہمیشہ ایسی آفرز کو رد کیا۔

ان دنوں کراچی کے سیاسی حالات کے پیشِ نظر ڈاکٹر علوی کا فیصلہ خاصا بیوقوفانہ لگتا تھا لیکن اب اس سے بڑھ کر بہتر فیصلہ کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

ڈیفنس کے حلقے سے منتخب ہونے کے بعد انہوں نے کچھ ایسے کام کیے جن کی مثال پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں کم کم ہی ملتی ہے۔

کراچی، اور بالخصوص عارف علوی کے پوش علاقوں پر مشتمل حلقے میں پانی کا بحران پہلے دن سے ہے۔ ہوا یوں کہ ایک دن ہمیں تحریکِ انصاف کے میڈیا سیل نے دعوت دی کہ اتوار کو عارف علوی اپنے حلقے کے نمائندہ وفد کے ساتھ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا دورہ کرنے جا رہے ہیں اس کی کوریج کی درخواست ہے۔

مقررہ وقت و دن ہم ایک قافلے کی صورت میں دھابیجی پہنچ گئے۔ ان کے وفد میں علاقہ معززین اور پارٹی اراکین شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ محض دورہ برائے دورہ نہیں تھا بلکہ عارف علوی مکمل ہوم ورک کے ساتھ آئے تھے یہی وجہ تھی کہ وہاں موجود حکام کے پسینے چھوٹتے ہم سب نے ملاحظہ کیے۔

پڑھیے: صدر پاکستان: کبھی طاقتور ترین، کبھی بے اختیار

فطری بات ہے کہ واٹر بورڈ حکام کو اس قسم کی صورت حال کا سامنا کم ہی رہا کیونکہ اب تک پانی و بجلی نہ ہونے پر لوگ احتجاج کرتے، پتھراؤ ہوتا اور پولیس ہوائی فائرنگ یا آنسو گیس کے گولے فائر کرکے مظاہرین کو منشتر کردیا کرتی، لیکن یہ صورتِ حال خاصی مختلف تھی۔

اسی طرح کراچی میں شجر کاری مہم انہوں نے کسی پوش علاقے میں کرنے کے بجائے پسماندہ سمجھنے جانے والے کیماڑی سے کی جہاں واقعی ان اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

صدر نامزد ہونے کے بعد جب عارف علوی کراچی پہنچے تو ان کے انٹرویو کا موقع ملا، میرے سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے صدور کی طرح غیر فعال نہیں بلکہ متحرک انداز میں اپنا کردار ادا کریں گے جبکہ عوام کے لیے ان کے دروازے کھلے رہیں گے۔

اب اس پر کتنا عمل در آمد ہوتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ میرے اس سوال پر کہ کیا آپ نے کبھی سوچا تھا صدر بنیں گے؟ ایک لمحے کے توقف کے بعد زندگی سے بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے بولے، ’ہاں سوچا تو تھا‘۔

عارف علوی کی فیملی بھی سماجی و سیاسی محاذ پر متحرک ہے۔ ان کے صاحبزادے اور بیٹیاں عدلیہ بحالی تحریک میں صفِ اول رہے۔ پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف اور افتخار محمد چوہدری کی بحالی تحریک میں ان کا خاندان شامل رہا، اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ان کا نظریہ فیملی نے بھی اختیار کیا اور پرویز مشرف کی حمایت کے بجائے مخالفت کی۔

عارف علوی کی نرم و شگفتہ مزاجی کی بابت ہر کوئی جانتا ہے لیکن اس عید پر ایک اور اچھی بات نے دل میں ان کا احترام بڑھایا کہ جب ان کے صاحبزادے عواب علوی سے میں نے نماز عید اور قربانی کی کوریج کے حوالے سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ نماز تو بیت السلام مسجد میں ادا ہوگی لیکن قربانی کے بارے میں میڈیا کو آگاہ نہیں کریں گے کیوں کہ گوشت کی تقسیم وغیرہ کے عمل کو تنہائی میں کرنا ہی مناسب ہے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی رہائش گاہ کے قریب تازہ پھول فروخت کرنے والے دکاندار نے پھول مٹھائیاں بانٹیں اور ہمیں مفت میں اچھی سی چائے پلائی۔