میں واللہ صدرِ پاکستان ہوتا!

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2018

ای میل

فرنگی کا جو میں دربان ہوتا

تو جینا کس قدر آسان ہوتا

میرے بچّے بھی امریکا میں پڑھتے

میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا

سر جھکاکے جو ہو جاتا ‘سر’ میں

تو لیڈر بھی عظیم الشان ہوتا

زمینیں میری ہر صوبے میں ہوتیں

میں واللہ صدرِ پاکستان ہوتا

60ء کی دہائی میں شاعرِ عوام حبیب جالبؔ جب اپنی اس مشہورِ زمانہ غزل کے آخری مصرعہ پر آتے تو لاکھوں کا مجمع لوٹ پوٹ ہوجاتا۔ جنرل محمد ایوب خان گئے تو پارلیمانی نظام کے سبب صدر کے عہدے نے وزیرِ اعظم کی جگہ لے لی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین محترم ذوالفقار علی بھٹو پہلے مرحلے میں صدر اور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر بنے، پھر جب 73ء کے آئین کے تحت وزیرِ اعظم بنے تو سارے اختیارات اُن کی ذات اور عہدے میں سمٹ آئے۔

صدارت کے لیے گجرات کے ایک مکین مخدوم چوہدری فضل الہٰی کا نام قرعہ فال میں نکلا۔ بھٹو صاحب کے پورے 5 سالہ دور میں اُن کی ایک یا 2 بار رونمائی ہوتی۔ جب وہ 14 اگست یا 23 مارچ کو افواج پاکستان کے دستوں سے سلامی لیتے یا پھر غیر ملکی وفود کے ساتھ اُن کا فوٹو سیشن ہوجاتا۔

بھٹو صاحب کے آخری دور میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کی کشتی ڈانواڈول ہو رہی تھی تو کسی منچلے پنڈی والے نے ایوانِ صدر کی دیوار پر یہ نعرہ لکھ دیا ’فضل الہٰی چوہدری کو رہا کرو‘ یہ خبر زبانِ خلق پر آئی تو کہیں سے یہ پھبتی بھی آئی کہ دیوار پر نعرہ لکھنے والے کوئی اور نہیں خود فضل الہٰی چوہدری تھے۔

پڑھیے: صدر پاکستان: کبھی طاقتور ترین، کبھی بے اختیار

سو بدقسمتی سے وطنِ عزیز کی تاریخ میں صدر جیسا مقتدر عہدہ مزاق بن گیا۔ بھٹو صاحب کے جانے کے بعد جب جب فوجی حکومتیں آئیں تو آرمی چیف صدارت کی کیپ بھی سر پر سجاتا اور یوں ’چھڑی‘ کے بجائے اُس کے لیے آئین کی ایک شق کی مدد سے ہی وزیر اعظم کو گھر بھیجنا آسان ہوجاتا۔ صدر غلام اسحٰق خان کے آتے آتے ’صدر‘ کا عہدہ دہشت کی علامت بن گیا۔ صدر اسحٰق خان نے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کو گھر بھیجا۔

جس کے بعد دونوں پارٹیوں کے سر میں یہ سودا سما گیا کہ آئین کی شق کے ساتھ ساتھ، ساڈے جج کے ساتھ ساڈا صدر بھی ہو۔ مگر یہ ساڈے 58 (2) (بی) صدر بھی اُن کے کام نہ آئے کہ پیپلز پارٹی کے وفادار سردار فاروق خان لغاری، مسلم لیگ (ن) کے صدر رفیق تارڑ بھی اُن کے لیے ’بروٹس‘ ثابت ہوئے کہ بھلے ساڈا جج تے ساڈا صدر جیسی گھڑی ہو مگر اصل طاقت کا سرچشمہ تو کمزور سیاسی جماعتوں اور سسٹم کے سبب جی ایچ کیو ہی ہوتا ہے۔

اکتوبر 1999ء میں ہمارے محترم میاں نواز شریف 2 تہائی اکثریت کے ساتھ ساڈا جج، تے ساڈا صدر بنا چکے تو ہوسِ اقتدار سے مغلوب ہو کر ’بم‘ کو لات مار بیٹھے۔ جنرل صدر مشرف کی جرنیلی کو ہائی جیک کرنے کی سزا انہیں یہ ملی کہ اگلے 14 سال کے لیے اقتدار سے باہر ہوگئے۔

پڑھیے: عمران خان بھی وفاداروں کو نوازیں گے، یہ امید ہرگز نہیں تھی

تاہم ذہین و فطین پارٹی سربراہ محترم آصف علی زرداری اس دوران ماضی سے یہ سبق حاصل کرچکے تھے کہ ’اقتدار‘ کی کرسی جس چھڑی پر کھڑی ہے وہ ’بے ساکھی‘ نہیں ہے۔ محترم میاں صاحب کی چوتھی باری آئی تو اسلام آباد کے سیاسی پنڈتوں کا یہی خیال تھا کہ دربدر کی ٹھوکروں کے بعد اُن کو یہ سمجھ آگئی ہوگی کہ بس پنڈی سے پنگا نہیں لینا۔ مگر معاملہ اُلٹا ہوگیا۔ اپنی اور اپنے خاندان کی اگلی نشستوں کے لیے اقتدار محفوظ کرنے کے خواہشمند محترم میاں صاحب ایک بار پھر ’لوہار‘ بن گئے۔ ’مودی کا یار‘ کا الزام لگانے والے کوئی اور نہیں خود اُن کے ہم قبیلہ سیاسی مخالف تھے۔

کہتے ہیں بات محض ’کاروبار‘ کی حد تک نہیں تھی بلکہ سرگوشیوں میں جو پیغام رسائی کی گئی وہ بھی ’پنڈی آب پارہ‘ تک پنہچ گئی۔ مستند ذرائع سے تو نہیں کہہ سکتا مگر بلوچستان میں سردار نواب ثناءاللہ زہری کی تبدیلی اور سینیٹ کے چیئرمین کے لیے انتخاب دراصل اس بات کے واضع اشارے تھے کہ 2018ء کے الیکشن میں کامیابی میاں صاحب کی مسلم لیگ (ن) کے مقدّر میں نہیں۔

’اسکرپٹ‘ کا لفظ میں لکھنے سے گریز کروں گا مگر لگتا یہی ہے۔ یہ ساری طول طویل تمہید بلکہ بلاگ میں نے اس لیے باندھا کہ یہ سطریں لکھتے وقت تحریکِ انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی صدارت کا عہدہ سنبھال چکے ہوں گے۔ سابق صدر ممنون حسین اور موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی میں بیشتر باتیں مشترک ہیں۔ دونوں کا تعلق کراچی سے، دونوں قریبی وفادار ورکر۔ بس فرق یہ ہے کہ ایک وزیرِاعظم کو ’دہی بھلےّ‘ پنہچانے کے حوالے سے مشہور ہے تو دوسرا دانتوں کا ایک ایسا ڈاکٹر جو کبھی اپنے وزیرِاعظم کو بھولے سے بھی دانت نہیں دکھائے گا۔