انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی شرجیل انعام میمن کے خلاف شراب برآمدگی کیس کی تحقیقات جاری ہیں، جس میں ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

آئی جی سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی نے باتیں یوم دفاع و یوم شہداءکے حوالے سے لگائے گئے ریتی لائن میڈیکل کیمپ کے دورے کے موقع پر کیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ اور ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو بھی ان کے ہمراہ تھے۔

صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہا کہ کیس کی تفتیش کے لیے تمام معاون خطوط پر کام کیا جائے گا، کورٹ پولیس سمیت کیس کے دیگر پہلوؤں پر ابھی رائے نہیں دے سکتا۔

مزید پڑھیں: شرجیل میمن شراب کیس: معلومات افشا کرنے پر ڈاکٹر معطل

اس سے قبل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ عمر شاہد نے میڈیکل کیمپ کا دورہ کرنے والے آئی جی سندھ اور دیگر افسران کو بریفنگ دی۔

ایس ایس پی نے اپنے سینئر افسران کو بتایا کہ صبح سے اب تک 800 سے زائد افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔

آئی جی سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی نے اس موقع پر کہا کہ پولیس نے یوم دفاع کی مناسبت سے کراچی کے مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگائے، جہاں ڈاکٹرز نے مستحق مریضوں کا مفت علاج کیا۔

گزشتہ روز سندھ حکومت نے چیف پیتھالوجسٹ اینڈ کیمیکل ایگزامنر ڈاکٹر زاہد انصاری کو خفیہ معلومات افشا کرنے پر معطل کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شرجیل میمن شراب برآمدگی: ’شک ہے ثبوتوں کو ضائع کرنے کی کوشش کی گئی‘

خیال رہے کہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال کراچی میں زیرعلاج پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن صوبائی اسمبلی شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد ہونے والی بوتلوں کے مواد کے کیمیکل جائزہ رپورٹ میں دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بوتلوں میں شہد اور زیتون تیل تھا۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتے کلفٹن میں قائم ڈاکٹرضیاالدین ہسپتال کے ایک کمرے میں اچانک ‘چھاپہ’ مارا تھا جہاں شرجیل میمن داخل تھے اور کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا اور یہاں سے ‘شراب کی بوتل برآمد’ ہونے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

شرجیل میمن کے کمرے سے بوتلیں برآمد ہونے کے فوری بعد پی پی پی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل تھا۔

مزید پڑھیں: میرے آنے کے بعد بوتلوں میں شہد اور زیتون بھی نکل آیا، چیف جسٹس

ڈاکٹر زاہد انصاری کے دستخط سے جاری رپورٹ میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایک بوتل میں شہد اور دوسری میں زیتون کا تیل موجود تھا۔

شرجیل میمن کے خون کے نمونے بھی لیے گئے تھے اور ان کی رپورٹ میں بھی شراب کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔