شراب برآمدگی:میرے آنے کے بعد بوتلوں میں شہد اور زیتون بھی نکل آیا، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کے معاملے پر ریمارکس دیے ہیں کہ میرے آنے کے بعد بوتلوں میں زیتون اور شہد بھی نکل آیا، لگتا ہے کہ ہسپتال کے کمرے میں شراب کے نمونے بدل دیے گئے۔

سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں جس ہسپتال گیا، اس کا کمرہ صدارتی محل جیسا تھا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کہا گیا کہ میں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، اگر شراب قبضے میں لینی ہوتی تو اسی وقت لے کر بندے کو جیل بھیج دیتا۔

مزید پڑھیں: شرجیل میمن کے خون میں الکوحل کے شواہد نہیں ملے، میڈیکل رپورٹ

چیف جسٹس نے کہا کہ بڑا شور مچا ہوا ہے کہ پتہ نہیں چیف جسٹس نے کیا کردیا، کہتے ہیں کہ یہ میرا کام نہیں اور مجھے ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں۔

چیف جسٹس نے شراب کی بوتلوں کے لیبارٹری نمونوں کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ریمارکس دیے میں شراب کی بات نہیں کرتا، اگر پکڑنا ہوتا اسی وقت ملزم کو گرفتار کروا دیتا اوراسی وقت ٹیسٹ کرواتا۔

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ پتہ نہیں بوتلوں کے نمونے کس طرح لیبارٹری گئے اور سب کیسے ہوا، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں ایک اور کیس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا۔

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ سرمایہ کاری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر عاصم کا نام تو ہم نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا ہوا ہے، وہ کہیں جا تو نہیں سکتے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ ضیاالدین ہسپتال بھی انہیں کا ہے ناں؟ مجھے پتہ چلا تھا کہ وہاں ایک صدارتی محل ہے جہاں ایک اعلیٰ قیدی رہتا ہے، اس اعلیٰ قیدی کی راتوں کو جو گفتگو ہوتی ہے وہ بھی ہمیں پتہ ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ میں خود شراب نہیں پیتا، کوئی دوسرا پیتا ہے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن میرے آنے کے بعد بوتلوں میں زیتون اور شہد بھی نکل آیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر سندھ کی انتظامیہ نے مدد نہیں دینی تو دوسرے صوبوں میں کیسز چلیں گے، یہاں بھی عدالتیں موجود ہیں، ہم بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ اپنے فیصلوں پر عمل کروانا بھی جانتے ہیں۔

اس دوران چیف جسٹس نے وکیل نعیم بغاری سے مکالمہ کیا کہ ہم نہ کسی سے گھبراتے ہیں اور نہ ہی ڈرتے ہیں، اللہ نے ہمیں ہمت دی ہے اور ہم قانون کی حکمرانی قائم کرکے رہیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں جیل کا دورہ کرچکا تھا اور اب سب جیل دیکھنا چاہتا تھا، میں تو سب جیل کا دورہ کرنے گیا تھا لیکن سب جیل میریٹ ہوٹل سے زیادہ لگژری تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہاں سب جیل میں یہ گفتگو بھی ہوتی ہے کہ کس کو پکڑوانا ہے اور کسے چھڑوانا ہے۔

شراب برآمدگی کا معاملہ

خیال رہے کہ یکم ستمبر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت سے قبل صبح سویرے شہر قائد کے 3 مختلف ہسپتالوں کا دورہ کیا تھا، اس دوران وہ کلفٹن کے نجی ہسپتال ضیاالدین میں شرجیل انعام میمن کے سب جیل قرار دیے گئے کمرے میں بھی گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شراب کی بوتلوں کی برآمدگی: شرجیل میمن ہسپتال سے جیل منتقل

چیف جسٹس نے شرجیل میمن سے مختصر بات چیت بھی کی تھی، تاہم اسی دوران ان کی نظر شراب کی بوتلوں پر پڑی تھی۔

بعد ازاں چیف جسٹس سپریم کورٹ کراچی رجسٹری واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے خود بوتلیں ملنے کی تصدیق کی اور اظہار برہمی کیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں ملیں، جب شرجیل سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ میری نہیں ہے۔

معاملہ ذرائع ابلاغ میں آنے کے بعد پولیس نے ہسپتال کے کمرے کو سیل کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کو جیل منتقل کردیا تھا۔

بعد ازاں شرجیل انعام میمن کی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی جس کے مطابق ان کے خون میں الکوحل شامل نہیں تھے۔