فلسطینی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ امریکی امداد بند ہونے سے آئندہ چند روز میں غزہ کے ہسپتال بند ہونے کا خدشہ ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا تھا کہ ایندھن کی فراہمی معطل ہونے سے غزہ کے بڑے ہسپتالوں کے جنریٹرز بند ہونے کے قریب ہیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ ذمہ دار جماعتیں اس مسئلے سے متعلق کوئی بات نہیں کررہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس میں قائم ہسپتال کے ڈائریکٹر نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ فلسطینیوں کی 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر امداد روکنے کا امریکی فیصلہ سنگین اثرات مرتب کرے گا۔

المقاصد ہسپتال کے ڈائریکٹر باسم ابو لبدہ کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے بیت المقدس کے ہسپتالوں کے نیٹ ورک کے 40 فیصد اخراجات متاثر ہورہے ہیں، یہ نیٹ ورک 6 ہسپتالوں پر مشتمل ہے۔

مزید پڑھیں : امریکا نے فلسطینی مہاجروں کی امداد مکمل طور پر روک دی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق یہ طبی مراکز، غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے پر رہائش پذیر فلسطینوں کو کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ دیگر طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔

اس سے قبل ہفتے کے روز امریکا نے کہا تھا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر منصوبے میں پیسے خرچ کرے گا تاہم اس سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

گزشتہ ہفتے بھی فلسطین کے وزارت صحت نے تنبیہ کی تھی کہ غزہ کے ہسپتالوں میں طبی سروسز ایندھن ختم ہونے سے معطل ہوجائیں گی۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پر 13 ہسپتال اور 54 طبی مراکز قائم ہیں جو اس علاقے میں رہائش پذیر 20 لاکھ افراد کو 95 فیصد طبی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔

اسرائیلی قبضے کا سامنا کرنے والے علاقے غزہ کو سال 2006 سے بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے فلسطینیوں کیلئے امداد میں 20 کروڑ ڈالر کی کٹوتی کردی

واضح رہے کہ یکم ستمبر کو امریکا نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے پروگرام کو فراہم کی جانے والی تمام تر امداد روکنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا نے اپنے فیصلے میں فلسطینی مہاجرین کی امداد کرنے والی یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کو ’انتہائی ناقص‘ قرار دیا تھا۔

امریکا کے اس فیصلے کے بعد سینئر فلسطینی عہدیدار حنان اشروی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مذکورہ اقدام کو ’ظالمانہ اور غیر ذمہ دارانہ' قرار دیا تھا۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا دفتر بند ہونے کا امکان

پریس ٹی وی کی علیحدہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے واشنگٹن میں قائم فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے دفتر کو بند کرنے کا اعلان متوقع ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن پیر کو کنزرویٹو گروپ فیڈرلسٹ سوسائٹی سے تقریر میں مذکورہ اعلان کرسکتے ہیں۔

وال اسٹریٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ جان بولٹن کی تقریر کے ابتدائی خاکے کے مطابق وہ کہیں گے کہ ’امریکا ہمیشہ اپنے دوست اور اتحادی اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا'۔

مزید پڑھیں: مہاجرین کی امداد روکنے پر فلسطینی غم وغصے کا شکار

رپورت کے مطابق جان بولٹن کہہ سکتے ہیں کہ ’ٹرمپ انتظامیہ اس وقت تک فلسطینی مشن کا دفتر نہیں کھولے گی جب تک فلسطین، اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار کرتا رہے گا‘۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر انٹرنشینل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دے سکتے ہیں۔

جان بولٹن کی جانب سے یہ بھی کہے جانے کے امکان ہے کہ ’اگر عدالت نے ہمارے، اسرائیل یا دیگر اتحادیوں کے خلاف اقدامات کیے تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے‘۔

فلسطینی مشن بند کرنے کا فیصلہ انتہائی خطرناک، حکام

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایک فلسطینی عہدیدار نے واشنگٹن میں قائم فلسطینی مشن کو بند کرنے کے فیصلے کو خطرناک قرار دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مشن کو بند کرنے کا فیصلہ فسطینی صدر کو مجبور کرنے کے لیے گیا، جنہوں نے امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے رابطہ ختم کردیا تھا۔

دوسری جانب فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے جنگی جرائم کی تفتیش کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں لے جانے پر بھی امریکا فلسطین پر برہم ہے۔