خیبر پختونخوا (کے پی) کے ضلع شانگلہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے-23 کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار شوکت یوسف زئی نے کامیابی حاصل کرلی۔

پی کے-23 کے ضمنی انتخاب کے حتمی لیکن غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے شوکت علی یوسف زئی نے 41 ہزار 960 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد ارشاد 22 ہزار ایک سو 13 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ پی کے 23 شانگلہ ون میں 135 مجموعی پولنگ اسٹیشنز میں 25 اسٹیشن مرد ووٹرز اور 21 خواتین ووٹرز کے مخصوص تھے جبکہ 89 پولنگ اسٹیشنز کو مرد و خواتین کے لیے مشترکہ بنائے گئے تھے۔

اسی طرح حلقے میں مرد پولنگ بوتھ 202، خواتین پولنگ بوتھ 137 جبکہ مجموعی پریذائیڈنگ افسران کی تعداد 135، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران کی تعداد 678 اور 339 پولنگ افسران تعینات کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:شانگلہ: پی کے 23 کے انتخابات کالعدم قرار، دوبارہ پولنگ کا حکم

پی کے-23 شانگلہ ون میں 82 پولنگ اسٹیشن کو پرامن، 35 کو حساس اور 18 پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین قرار دیا گیا تھا۔

ضمنی انتخاب کے لیے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے اور اس دوران فوج کے دستے بھی تعینات کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ 25 جولائی 2018 کو منعقدہ کیے جانے والے انتخابات میں شانگلہ سے صوبائی اسمبلی کی مذکورہ نشست میں پی ٹی آئی کے شوکت یوسف زئی نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم انتخابی اصلاحاتی بل 2017 کے مطابق خواتین ووٹرز کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

شانگلہ کے حلقہ پی کے-23 ون میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 555 تھی جن میں خواتین ووٹرز کی تعداد 86 ہزار 728 اور مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار 827 تھی۔

یاد رہے کہ مذکورہ حلقے میں جولائی کو ہونے والے انتخابات میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 5.1 فیصد رہا تھا جبکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق خواتین کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد ہونا لازمی تھا، اس حلقے میں مجموعی ووٹ 69ہزار 8سو 27 تھے جن میں سے 3ہزار 5سو 5 خواتین نے ووٹ ڈالے تھے۔

خواتین کی ووٹوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے مذکورہ حلقے میں انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ الیکشن کے احکامات جاری کر دیے تھے۔