وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِصدارت محرم الحرام کی سیکیورٹی اور امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں حساس مقامات پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانے کے احکامات جاری کیے گئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مختلف مکاتب فکر کے علما نے صوبے کے عوام میں مذہبی آہنگی میں کردار ادا کیا ہے، اس لیے محرم الحرام میں کسی حادثے کے امکانات نہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو امن، یکجہتی اور باہمی احترام کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزرا سعید غنی، سید ناصر شاہ اور مرتضیٰ وہاب پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی، جو ضابطہ اخلاق سے متعلق علما و مشائخ سے ملاقاتیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں مختلف مکاتب فکر کے علما سے بذات خود ملاقات کروں گا اور ان کی سیکیورٹی سے متعلق لیے گئے فیصلوں سے آگاہ کروں گا'۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر نے وزیر اعلیٰ کو محرم الحرام میں امن و امان کے قیام اور مذہبی اوردیگر اداروں کے ضابطہ اخلاق سے متعلق بریفنگ بھی دی۔

سیکریٹری داخلہ نے مزید کہا تھا کہ ماہِ محرم میں امن کے قیام کے لیے تمام سطح پر امن کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں : اسلام آباد میں 2 ماہ کیلئے ڈبل سواری پر پابندی عائد

ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے اجلاس میں بتایا کہ صوبے بھر میں 1996 امام بارگاہیں ہیں، جن میں سے 356 کراچی میں، 590 حیدرآباد، 118 میر پور خاص ،93 شہید بینظیر آباد، 374 سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں 456 ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان امام بارگاہوں سے 3 ہزار 5 سو 13 جلوس نکالے جائیں گے، جن میں 3 سو 19 کو انتہائی حساس، 1 ہزار 59 کو حساس اور باقی 2 ہزار 1 سو 35 کو پرامن قرار دیا گیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ بھر میں نکالے جانے والے 7 سو 8 ماتمی جلوسوں میں سے 11 انتہائی حساس، 3 سو 12 حساس اور 4 سو 63 پرامن ہیں۔

محرم کے تمام جلوسوں کو مکمل سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے 69 ہزار 5 سو 45 اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں سے کراچی میں 17 ہزار 5 سو 58 اہلکار، حیدرآباد میں 16 ہزار 8 سو 16، میر پور خاص میں 2 ہزار 2 سو 37، شہید بینظیر آباد میں 9 ہزار 2 سو 80، سکھر میں 8 ہزار 2 سو 53 اور لاڑکانہ ڈویژن میں 15 ہزار 4 سو ایک اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ سندھ بھر میں 7 ہزار رینجرز اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی روابط اور بھرپور تعاون قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور کراچی میں اطلاعات کی بروقت رسائی کے پیشِ نظرایک کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ میں 8 سے 10 محرم تک ڈبل سواری پر پابندی عائد

اجلاس میں بتایا گیا کہ 8 ، 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کی نگرانی 184 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی، جلوس کے راستے کے 43 مختلف مقامات کی نگرانی 55 موبائل اور 129 کیمروں کے ذریعے کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ سیکیورٹی کے لیے عام انتخابات میں پولنگ اسٹیشن پر استعمال کیے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم ان سی سی ٹی وی کیمروں کو جہاں ضرورت ہو نصب کرسکتے ہیں'۔

انہوں نے کے الیکٹرک، حیسکو، سیسکو، ٹیلیفون کمپنیز اور کیبل آپریٹر سے تعاون کرکے اضافی کیبلز ہٹانے کی تاکید بھی کی۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق کسی مکتب فکر یا مذہبی رہنما پر تنقید کی اجازت نہیں ہوگی اور پولیس تمام نامور شخصیات کی تقاریر ریکارڈ کرے گی۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہوگی اور لاؤڈ اسپیکر کے محدود استعمال کی اجازت ہوگی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے تمام کمشنرز، ڈی آئی جیز، ڈی سیز، ایس ایس پیز کو اپنے علاقے 12 محرم تک نہ چھوڑنے کی بھی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ اگر انتہائی ضروری ہو تو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو اطلاع دے کر ہیڈکوارٹرز چھوڑا جائے۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کو اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے احکامات بھی جاری کیے۔

رینجرز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے اور آئندہ چند دنوں میں بہتر نتائج ملیں گے۔