تمام مکاتب فکر کے علماء کا محرم میں امن برقرار رکھنے پر زور

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2018

ای میل

وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری کی زیر صدارت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کے اجلاس میں محرم الحرام کے تقدس سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد تمام علماء کرام کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام مکاتب فکر اپنے درمیان محبت، رواداری اور افہام و تفہیم کی فضا قائم کرنے کی خلوص دل سے کوشش کریں گے اور دوسرے مسالک کے اکابرین کا احترام کریں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ علماء کرام خطبہ اور مصنفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں توازن و اعتدال پیدا کریں اور ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تحریروں سے پرہیز کریں گے جن سے دوسروں کی دل آزاری کا امکان ہو۔

مزید پڑھیں: خطبات جمعہ کے موضوعات،قواعد و ضوابط کی تیاری کیلئے کمیٹی تشکیل

ان کا کہنا تھا کہ مسلکی تنازعات کو باہمی مشاورت، افہام و تفیہم اور سنجیدہ مکالمے کے اصولوں کی روشنی میں طے کریں گے، عوامی پلیٹ فارم سے اپنے مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امہات المومنین، صحابہ کرام، اہل بیت اطہار، اولیائے کرام، تابعین و تبع تابعین اور تمام مسلمانوں کے ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اور ان میں سے کسی کو بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ قومی، ملکی حالات اور معاملات میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام متفق و متحد رہیں گے۔

اجلاس میں علامہ اظہار بخاری نے مطالبہ کیا کہ ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں ایسے متنازع علماء پر پابندی لگائی جائے، جو سارا سال گانے گانے والے محرم الحرم میں ہمیں لیکچر دینے آجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علماء نے ’یکساں نظامِ اذان اور نماز‘ کی مخالفت کردی

علماء کرام نے محرم الحرم کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے تجویز دی کہ اتحادِ امت کی خاطر ایسے اجلاس ہر ماہ ہونے چاہیے۔

علماء کرام کا کہنا تھا کہ ’اس زبان کو بند ہونا چاہیے جو بیرون ملک سے مفاد کے لیے یہاں آگ لگا رہی ہے‘۔

ان نے کہا کہ ’بلا تفریق رنگ و نسل جو مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرے اس پر پابندی لگنی چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: حکومت اسلامی بینکنگ کے فروغ کیلئے کوشاں ہے، نگراں وزیر خزانہ

انہوں نے افواج پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے اور پاکستان کا جھنڈا جلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

علماء کرام کا کہنا تھا کہ نفرت پھیلانے والوں پر پابندی لگے گی تو امن و امان بھی بہتر ہوجائے گا۔

اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ اس طرح کے اجلاس صوبوں اور ضلعی سطح پر بھی منعقد کیے جائیں۔