محرم الحرام کے بعد پولیس کا مربوط نظام تشکیل دیں گے، وزیراعلیٰ

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2018

ای میل

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے بعد صوبائی پولیس کے نظام میں بہتری کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے گی۔

قائد اعظم کی 70ویں برسی پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ 'نگراں حکومت کے عرصے میں پولیس کے بجائے الیکشن پر زور دیا گیا، افسران کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر کردیا گیا جس کے نتیجے میں گزشتہ چند ماہ میں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان کے لیے قائد اعظم کا وژن بہت واضح تھا اور میری کوشش ہے کہ بالعموم پاکستان اور بالخصوص سندھ میں عوامی ترجیحات اور امیدوں پر پورا اترتء ہوئے صوبے کو ترقی کی نئی منزل پر لے جائیں۔'

سانحہ بلدیہ کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے غیر واضح جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’سانحہ بلدیہ سے متعلق مختلف سطح پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بنیں جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں بھی مقدمہ زیر سماعت ہے، ملزمان کی کسی حد تک شناخت ہو چکی ہے، جو بھی مصلحتیں ہیں ان سے ہٹ کر ملزمان کو سزا دی جانی جاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اللہ ہمیں توفیق دے کہ صوبے کو امن کا گہوارہ بنائیں اور ایسا سازگار ماحول دے سکیں کہ عام شخص اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں سے تعلیم کے زیور سے آرستہ کر سکے‘۔

سید مراد علی شاہ نے الزام لگایا کہ ’سیف سٹی منصوبہ ایک ادارے کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا جسے جلد دوبارہ شروع کرنا ہوگا، جبکہ شہر میں نصب کیمروں کو فعال کیا جائے گا۔'

صوبائی خود مختاری کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے اور وفاق کے ساتھ آئینی ضوابط کے تحت بھرپور تعاون کریں گے، تاہم اگر صوبائی خود مختاری سے بالا تر ہو کر فیصلے کیے گئے تو مخالفت کریں گے۔

اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے عزم کا اظہار کیا کہ ’صوبے میں زیر تکیمل اور شروع ہونے والے منصوبوں کے لیے وفاق کا تعاون غیر معمولی ہو گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی کی کابینہ موجود ہے اور ہم عہد کرتے ہیں کہ صوبے کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں رہیں گے‘۔

قبل ازیں گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ نے قائد اعظم کی برسی کے موقع پر کابینہ اراکین کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزار قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔