بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا 70 واں یوم وفات آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

بانی پاکستان کے یوم وفات پر سیاسی و عسکری شخصیات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مزار قائد پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

مزید پڑھیں: قائد اعظم کی زندگی کے گمشدہ اوراق

قائد اعظم کے یوم وفات پر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے پیغامات بھی جاری کیے گئے، جن میں بانی پاکستان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

بابائے قوم کی زندگی اور جدوجہد پر اگر نظر ڈالیں تو بانی پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے، اور انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں کیا۔

وہ 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان گئے جہاں انہوں نے 1896 میں وکالت کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آئے۔ قائدِاعظم کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اُصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی۔

وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا، اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اعلیٰ معیار اور دیانت سے کِیا اور اپنے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل وضع کِیا جو ہمیشہ جامع اور مکمل رہا۔ آپ کا انتقال پاکستان کے آزاد ہونے کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948 کو ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو خوشحال بنانے کا قائدِاعظم کا منصوبہ کیا تھا؟

محمد علی جناح کا یوم وفات ایک ایسے عظیم ترین قائد کی یاد دلاتا ہے جس نے برصغیر کے خوف زدہ اور مایوس مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا تھا۔

انہوں نے حصول منزل کے لیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نے بے شمار رکاوٹوں کے باوجو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔