اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کردی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات میں انٹرنیٹ ووٹنگ (آئی ووٹنگ) کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے سمندر پار پاکستانی 17 ستمبر تک رجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے رجسٹریشن کی تاریخ 15 ستمبر مقرر کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کا حق تسلیم

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ تاریخ میں توسیع کا مقصد زیادہ سے زیادہ تارکین وطن کی رجسٹریشن یقینی بنانا ہے، تاہم ادارے نے یہ واضح کیا کہ صرف قومی شناختی کارڈ برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی (نائیکوپ) یا مشین ریڈیبل پاسپورٹ (ایم آر پی) کے حامل تارکین وطن رجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ 17 اگست 2018 کو سپریم کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلق حق کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ ضمنی انتخابات میں انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور دیگر کی درخواست پر حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن، نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی معاونت سے انتظامات کو یقینی بنائے اور آئی ووٹنگ کے انتخابی نتائج کو بالکل علیحدہ رکھا جائے۔

بعد ازاں 20 اگست کو الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر نادرا کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی رجسٹریشن کا حکم دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے نادرا کو انٹرنیٹ ووٹنگ سافٹ ویئر کا عملی مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی تھی اور یکم سے 15 ستمبر تک سمندر پار پاکستیوں کی رجسٹریشن مکمل کرنے کا کہا تھا۔

تاہم کچھ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر’عجلت‘ میں انٹرنیٹ ووٹنگ کے نظام کو متعارف کروانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے تمام ترتنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی پی نے تجربہ کرنے کے لیے اس منصوبے کو تیار کیا ہے اور یہ حقیقی نتائج پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ آئی ووٹنگ کامقصد انتخابات میں دھاندلی، نتائج میں ردوبدل کرانا ہے‘

30 اگست کو سپریم کورٹ نے 7 کروڑ 90 لاکھ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے آئی ووٹنگ طریقہ کار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزمائشی طورپر ضمنی انتخابات میں استعمال کرنے لیے محفوظ ، قابلِ بھروسہ اور مؤثر قرار دیا تھا۔

اس ضمن میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ اگر نئے طریقہ کار میں سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ میں خامی نطر آئے یا وہ مطمئن نہ ہوں تو حتمی نتائج مرتب کرتے ہوئے ان ووٹوں کا شمار نہ کیا جائے۔