بھارت: 12 افراد کا طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2018

ای میل

بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ میں کالج طالبہ کو 3 افراد نے اغوا کیا تھا جس کے بعد اسے 12 افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ لڑکی اپنی ٹیوشن کی کلاس لینے کے بعد گھر جارہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 19 سالہ لڑکی بس اسٹاپ پر انتظار کر رہی تھی کہ اسے مبینہ اغواکاروں نے اغوا کرنے کے بعد نشہ آور چیز کھلائی اور ریپ کیا۔

مقامی پولیس افسر آنیردھ کمار کا کہنا تھا کہ وہ 3 ملزمان کو جانتی ہے کیونکہ ان کا تعلق اس کے گاؤں سے ہی تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت: 14 سالہ لڑکی کے ریپ میں ملوث 6 ملزمان گرفتار

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی میں چلنے والی ریاست ہریانہ ایک بڑا قبائلی علاقہ ہے۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نریندر مودی کی جانب سے 2015 میں چلائی گئی ‘بیٹیاں بچاؤ، بیٹیوں کو تعلیم دو’ مہم کا حوالہ دیا اور کہا کہ ‘ہمارے وزیر اعظم ہماری بیٹیوں کی حفاظت اور ان کی تعلیم کی بات کرتے ہیں، ہم ایسا کیسے کرسکتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں شکایت درج کرانے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں، ہم اپنی بیٹیوں کے لیے انصاف چاہتے ہیں’۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ موہن لال کھتر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

بھارت میں ایک عرصے سے لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کے واقعات تواتر سے رونما ہو رہے ہیں اور عالمی برادری سمیت بھارت میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ریپ سے متاثرہ طالبہ کی خودکشی، خاتون سمیت 3 افراد گرفتار

2016 میں بھارت میں تقریباً 40 ہزار ریپ کے مقدمات درج ہوئے تھے۔

اس حوالے سے سماجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ‘یہ ہمیں صرف پہاڑ کی چوٹی دکھائی دی ہے، اصل پہاڑ تو چھپا ہوا ہے’۔

چند ماہ قبل ہی ایک 4 ماہ کی بچی کو اغوا اور ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی 8 سالہ لڑکی آصفہ بانو کا متعدد مرتبہ ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کر کے لاش مقامی مندر میں پھینک دی گئی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ بڑھتے ہوئے ان واقعات سے خوف و ہراس کا شکار خواتین اور لڑکیوں نے اپنے دفاع کے لیے اب باقاعدہ سیلف ڈیفنس کی کلاسز لینا شروع کردی ہیں تاکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ہر حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔