گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں سے ہمیں کیا فائدہ ہوا؟

24 ستمبر 2018

ای میل

’پاکستانی معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوششیں‘ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1985ء میں جونیجو حکومت کے وزیرِ خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے بجٹ پیش کرنے کے بعد میڈیا بریفنگ میں اعلان کیا تھا کہ معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور یہ اقدامات تاحال جاری ہیں۔ مگر معیشت تو کیا دستاویزی ہوتی، ملک میں غیر دستاویزی اور بلیک مارکیٹ اور بلیک پیسے میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا دیکھا گیا۔

اس معیشت اور پیسے کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے لیے متعدد ایمنسٹی اسکیموں کا بھی سہارا لیا گیا مگر نتیجہ وہی کہ معیشت میں گرے ایریاز بڑھتے ہی چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورسز (ایف اے ٹی ایف) نے گرے لسٹ میں ایک مرتبہ پھر شامل کردیا ہے۔

اس سے پہلے کہ پاکستان پر بات کی جائے، آئیے ایف اے ٹی ایف کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں بلیک مارکیٹ کو ختم کرنا ہے۔ اس ادارے کے اقدامات کی پاکستان پر کوئی خاص قانونی حیثیت تو نہیں ہے مگر اس کی گرے یا بلیک لسٹ میں شامل ہونے پر غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہوجائیں گے کیونکہ انہیں خدشہ ہوگا کہ ان کے پیسے اور سرمایہ کاری کہیں دہشت گردی یا غیر ریاستی تنظیموں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے۔

پڑھیے: تحریک انصاف کا 'منی بجٹ' ماضی کے دعووں کی روشنی میں

پاکستان کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ایتھوپیا، سربیا، سری لنکا اور یمن شامل ہیں جبکہ عراق کو دہشت گردی فنانسنگ اور اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات کرنے پر نگرانی کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔

سابقہ وزیرِ خزانہ اور بعض ماہرین کا خیال تھا کہ پاکستان کو سیاسی وجوہات کی بناء پر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالا گیا ہے، مگر پاکستان نے ایف اے ٹی ایف سے جن 10 نکات پر اتفاق کیا ہے اس میں سے چند نکات تو ایسے ہیں جو پاکستان کے اندر کام کرنے والی بعض تنظیموں کو متاثر کرتے ہیں۔ جبکہ متعدد اقدامات ایسے ہیں جن پر عمل کرنے سے پاکستان میں معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکا میں گزشتہ دنوں نیو یارک ڈیپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز نے بھی پاکستان کے متعدد بینکوں کے خلاف کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک بینک برانچ کو بند کرنے کے علاوہ اس پر جرمانہ بھی عائد ہوا جبکہ پاکستان کے دیگر بینکس بھی زیرِ نگرانی ہیں۔ یہ سب اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہوا تھا۔

پڑھیے: پاکستانی سیاست: ٹرین اور پجیرو سے اڑن کھٹولوں تک کا سفر

گزشتہ دنوں جے ایس بینک کے نئے صدر باصر شمسی سے ملاقات ہوئی تو ان کا یہی کہنا تھا کہ پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے ہیں اور جو رپورٹنگ کو بہتر بنانے کی بات کی گئی ہے وہ نہ صرف ملک کے مفاد میں ہے بلکہ بڑے آپریشن کرنے والے بینکوں کے مفاد میں بھی ہے۔ اب ایسے سافٹ ویئر موجود ہیں جن میں مشکوک لین دین کی نشاندہی کی جاسکتی ہے مگر اس نشاندہی کی نگرانی کرنے اور اس پر قوانین کے مطابق عمل کرنے کے لیے ہیومن ریسورس کی ضرورت ہے جس پر کام کیا جارہا ہے۔

ہر بینک صارف کی کریڈٹ ہسٹری بنائی جاتی ہے۔ جیسے ہی ایک حد سے بڑا لین دین ہوتا ہے اس پر الرٹ جاری ہوتا ہے۔ بینک کا نمائندہ صارف سے فون پر رابطہ کرتا ہے اور تصدیق کے بعد لین دین کی اجازت دی جاتی ہے۔ اگر کسی بینک اکاونٹ میں اچانک بڑی رقم آجائے تو فوری طور پر صارف سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان، خصوصاً اسٹیٹ بینک نے اس حوالے سے اقدمات اٹھائے ہیں، جس سے زرِمبادلہ مارکیٹ میں غیر قانونی لین دین پر بڑی حد تک روک لگی ہے۔

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے 6 جولائی کو ایک سرکولر نکالا جس میں ایکس چینج کمپنیوں کو پابند کیا گیا کہ وہ نقد کیش کی نقل و حرکت کو کم سے کم کریں۔ اس خط میں جن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی تھی، جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • ایکس چینج کمپنی کی ہر برانچ کے ورکنگ کیپیٹل کا تعین کیا جائے گا اور کمپنی متعین کردہ حد سے زائد کا کاروبار کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔ یہ شرط 'اے' اور 'بی' ٹائپ کمپنیوں پر لاگو ہوگی۔
  • ایکس چینج کمپنیاں صرف اور صرف اسٹیٹ بینک کی منظور کردہ جگہوں یا برانچوں سے زرِمبادلہ کا لین دین کرسکیں گی۔
  • پاکستانی کرنسی اور زرمبادلہ کے لین دین کو بروقت (Real Time) بنیادوں پر اندراج کیا جائے گا۔
  • ملک کے اندر ایک سے دوسرے شہر پاکستانی کرنسی کی منتقلی کے لیے بینک اکاونٹس استعمال کیے جائیں گے۔
  • شہر کے اندر نقد پاکستانی کرنسی یا دیگر شہروں میں زرِمبادلہ کی منتقلی کمپنی کے تصدیق شدہ ملازم ہی کے ذریعے کی جاسکے گی۔
  • اس مقصد کے لیے کمپنی اپنی ٹرانسپورٹ، کیش ٹرانزٹ کمپنی یا فضائی سفر کے ذریعے کرسکے گی۔
  • ایکس چینج کمپنی کی فرنچائز بھی نقد لین دین کا مکمل حساب کتاب رکھیں گی۔
  • نقد زرِمبادلہ یا پاکستانی کرنسی کی منتقلی کے لیے کمپنی باقاعدہ رسید جاری کرے گی اور اپنے اسٹاف کو نقد رقم منتقل کرنے کا اتھارٹی لیٹر بھی فراہم کرے گی۔
  • نقد منتقل کرنے کے حوالے سے ملازمین کے سفر کی تفصیلات اور دستاویزات (ٹکٹس وغیرہ) کے ریکارڈ کو بھی محفوظ کیا جائے گا۔
  • بینکوں سے رقوم نکلوانے کے لیے چیکس کا بھی ریکارڈ رکھا جائے گا۔

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر کا کہنا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس کے قوانین پر عملدرآمد کو سخت کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی نقل و حرکت کو دستاویزی بنایا گیا ہے۔ یہ قوانین پہلے بھی موجود تھے مگر اب اس میں موجود ابہام کو دور کردیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی پالیسی کا محور ہے کہ زرِمبادلہ کے لین دین میں کون کیا کررہا ہے۔ کتنا زرِمبادلہ خرید یا فروخت کررہا ہے اور یہ عمل کہاں ہورہا ہے؟

عابد قمر کا کہنا تھا کہ اب اگر ایکس چینج کمپنیاں کسی بھی قسم کے غیر قانونی لین دین میں ملوث پائی گئیں تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اسٹیٹ بینک بھاری جرمانے عائد کرنے کے علاوہ لائسنس کی منسوخی اور مجرمانہ مقدمات بھی قائم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ نقد رقم کی منتقلی بھی روک دی گئی ہے۔ اگر کوئی بھی فرد نقد رقم کے ساتھ پکڑا گیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اختیار ہوگا کہ رقم کو ضبط کریں اور اس کے حوالے سے دستاویزات کی تصدیق کریں بصورت دیگر یہ رقم ضبط ہونے کے علاوہ گرفتاری اور مقدمات بھی قائم ہوسکتے ہیں۔ عابد قمر اس بات پر مطمئن ہیں کہ معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

پڑھیے: قربانی کی کھالیں اور معیشت پر اس کے اثرات

میرا خیال تھا کہ ان اقدامات سے ایکس چینج کمپنیوں کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہوں گے۔ حقیقت کیا ہے یہ جاننے کے لیے فاریکس ایسوسی ایشن کے سربراہ ملک بوستان کے پاس جا پہنچا۔ ملک بوستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کرنسی کے لین دین کا کاروبار کررہے ہیں۔ انہوں نے زرِمبادلہ کے غیر منظم کاروبار کو کامیابی کے ساتھ ایکس چینج کمپنی میں تبدیل کیا ہے۔ وہ اس کاروبار کے تمام نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے زرِمبادلہ کے کاروبار کو سڑک سے اٹھا کر کارپوریٹ میں تبدیل کیا ہے۔

میری توقع کے خلاف ملک بوستان اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے بہت خوش نظر آئے، ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے لائسنس یافتہ ایکس چینج کمپنیوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ گلی محلوں میں کھلی غیر قانونی ایکس چینج کمپنیاں بند ہوگئی ہیں۔ اب سے کام قانونی ہورہا ہے، جس سے ہمیں فائدہ ہے۔

اب جس کسی کو بھی زرِمبادلہ خریدنا یا فروخت کرنا ہوتا ہے اس کو ہمارے کاؤنٹر پر آنا پڑتا ہے اور لین دین کی نہ صرف پکی رسید جاری ہوتی ہے بلکہ ویڈیو ریکارڈنگ بھی ہوتی ہے۔

جس کسی کو بھی زرِمبادلہ فروخت کرنا ہے، اس کو ایکس چینج کمپنی آنا ہوگا یا پھر اپنے کسی ملازم کو اتھارٹی لیٹر دینا ہوگا۔

ایکس چینج کی کوریئر سروس مکمل طور پر بند ہوگئی ہے، جس سے زرِمبادلہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ اب کوئی بڑا سرکاری ملازم ہو یا منسٹر اس کو زرمبادلہ لینے یا فروخت کرنے کمپنی کے دفتر میں آنا پڑے گا۔

زرِمبادلہ کی خرید وفروخت کے لیے شناخت لازمی کردی گئی ہے۔ پہلے 2500 ڈالر کے لیے شناختی کارڈ کی شرط تھی جو کہ اب 500 ڈالر پر آگئی ہے۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ جون کے آخری ہفتے میں ان ہدایات پر عملدرآمد شروع ہوا تھا۔ اس عمل سے اچانک ہی کاروبار میں تقریباً دگنے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان اقدامات سے قبل لائسنس ایکس چینج کمپنیاں ماہانہ 50 سے 70 لاکھ ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں فراہم کرتی تھیں جو کہ جون میں بڑھ کر 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہوگئی ہے۔ اگست میں ایکس چینج کمپنیوں نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں فراہم کیے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر زرِمبادلہ کرنسیوں کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے، جس میں سعودی ریال، برطانوی پاؤنڈ، یورو اور دیگر شامل ہیں۔ دیگر زرِمبادلہ کرنسیوں کی مالیت جون میں 25 کروڑ ڈالر ہوگئی جبکہ اگست میں یہ 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل دیگر زرمبادلہ کی مالیت 15 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہوتی تھی۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہونے کے بحران سے نکلنے کے لیے پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں، وہ نہ صرف پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کے حوالے سے عالمی سطح پر نیک نامی میں اضافہ کریں گے اور پاکستان کو دنیا کے زمہ دار ملکوں میں شامل کریں گے بلکہ یہ اقدامات پاکستانی معیشت کے لیے بھی اہم ہیں۔ یہ اقدامات معیشت کو دستاویزی بنانے کے ساتھ ساتھ قانونی کاروبار کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہورہے ہیں۔

جہاں تک بات ہے گرے لسٹ کے حوالے سے سیاسی معاملات کی، ان سے پاکستانی حکومت کو اپنی سفارت کاری اور اقدامات سے علیحدہ طور پر نبردآزما ہونا ہوگا۔