ڈیٹا ہیک ہونے کے بعد گوگل پلس بند کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2018

ای میل

گوگل پلس کو 2011 میں متعارف کرایا گیا تھا—فائل فوٹو: ٹی این ڈبلیو
گوگل پلس کو 2011 میں متعارف کرایا گیا تھا—فائل فوٹو: ٹی این ڈبلیو

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ‘گوگل’ نے اپنی سوشل شیئرنگ ویب سائیٹ ‘گوگل پلس’ کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ گوگل پلس کو 7 سال قبل جون 2011 میں متعارف کرایا گیا تھا، اس سوشل شیئرنگ پیج کا مقصد فیس بک جیسی ویب سائیٹس کا مقابلہ کرنا تھا۔

اگرچہ گوگل کے یوٹیوب اور جی میل سمیت اس کی سرچ انجن کا کوئی ثانی نہیں، تاہم اس کے ‘گوگل پلس’ نے فیس بک سمیت کسی بھی حریف سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن اور ویب سائیٹ کے مقابلے کم شہرت حاصل کی۔

رواں برس مارچ میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ہیکرز نے گوگل پلس سمیت گوگل دیگر 5 لاکھ صارفین کا ڈیٹا ہیک کرکے ان کی انتہائی حساس معلومات تک رسائی حاصل کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلس ایک نئے انداز سے دوبارہ متعارف

تاہم گوگل نے ابتدائی طور پر اس خبر سے انکار کیا تھا، لیکن اب گوگل نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متاثرہ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ کرلیا اور اب گوگل پلس کو بند کیا جائے گا۔

گوگل نے اپنے بلاگ میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے تھرڈ پارٹی کی درجنوں ایپلی کیشنز کی مدد سے صارفین کے ہیک ہونے والے ڈیٹا کو محفوظ کرلیا۔

کمپنی نے اعتراف کیا کہ ہیکرز نے صارفین کے ان باکس سمیت ان کی انتہائی حساس معلومات تک رسائی حاصل کرلی تھی اور ہیک کیے گئے ڈیٹا کو محفوظ بنانے میں کافی مشکلات بھی پیش آئیں۔

گوگل نے بتایا کہ ہیکرز کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اب صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ کرالیا گیا ہے، تاہم اب گوگل پلس کو بند کردیا جائے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ کمپنی نے گوگل پلس کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ ہی پرائیویسی اور صارفین کے ڈیٹا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے کئی فیچرز اور ٹولز متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا۔