منرل واٹر کیس:'کمپنیاں قیمتیں بڑھائیں گی نہ بوجھ صارف پر منتقل ہوگا'

06 دسمبر 2018

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ منرل واٹر کمپنیاں پانی کی بوتلوں کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گی اور قیمت کا بوجھ صارف پر منتقل نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کانفرنس روم میں منرل واٹر کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت نے بہت بڑا کام کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کی ٹریٹمنٹ پر جو کام فوری ہو سکتا ہے وہ کریں جبکہ جس کام میں تاخیر ہو سکتی ہے اس کے لیے ٹائم فریم طے کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیاں زیر زمین سے بڑی مقدار میں پانی نکال رہی ہیں، پانی کی قیمت عدالت نے مقرر کر دی ہے، پانی کی بوتلوں کی قیمتیں کمپنیاں نہیں بڑھائیں گی اور پانی کی قیمت کا بوجھ صارف پر منتقل نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: عوام منرل واٹر کے بجائے نلکوں کا پانی پیئیں، چیف جسٹس

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے زیر زمین پانی کے استعمال کی قیمت مقرر کر دی ہے۔

نمائندہ بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان نے بھی منرل واٹر اور سافٹ ڈرنکس سمیت ہر قسم کے پانی کے استعمال کی قیمت مقرر کر دی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وسائل کی چوری نہیں ہونی چاہیے اور سارے کام نیک نیتی سے ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں تو منرل واٹر کے استعمال کے خلاف مہم شروع کرنے کی سوچ رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنیاں پانی کی ٹریٹمنٹ اور بہتری کے لیے عدالتی کمیشن کے ساتھ بیٹھ کر تجاویز طے کر لیں اور فریقین اپنی طے کردہ تجاویز سے 13 دسمبر کو عدالت کو آگاہ کر دیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا منرل واٹر کمپنی نیسلے کے فرانزک آڈٹ کا حکم

کیس کی سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ منرل واٹر کمپنیوں کو زیر زمین پانی نکالنے کی قیمت ہر صورت ادا کرنی ہوگی، کمپنیاں ایک ہفتے میں اپنا نظام ٹھیک کرلیں ورنہ انہیں بند کردیں گے اور منرل واٹر کمپنیاں بند ہونے سے کوئی پیاسا نہیں مرے گا۔